سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 216 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 216

216 تحفہ دیئے ہوئے تھے۔وہی میں حضرت اماں جان کے لئے لے گئی۔حضرت اماں جان چاولوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوئیں اور خادمہ کو فرمایا کہ آج زینب کے ان چاولوں کا پلاؤ پکانا۔حالانکہ آپ بادشاہ تھیں۔آپ کو چاولوں کی کیا پر واہ تھی لیکن اس عاجزہ کی خوشنودی کی خاطر اس کو معمولی تحفہ نہ سمجھا اور خادمہ کو پکانے کا حکم دے دیا جس سے میرا دل بہت خوش ہوا۔۶۵ اہلیہ حضرت منشی تنظیم الرحمن صاحب میں گھر میں جب کوئی نئی چیز پکاتی تو اماں جان کی خدمت میں ضرور لے کر حاضر ہوتی۔اماں جان دیکھ کر بہت ہی خوشی کا اظہار فرماتیں اور فرماتیں کہ میرا دل اسی کو چاہتا تھا۔جب آپ یہ فرما تھیں کہ میرا دل بھی اسی کو چاہتا تھا تو میں خوش کے مارے پھولے نہ سماتی۔دراصل میری حوصلہ افزائی اور شکران نعمت کی تعلیم دنیا غرض ہوتی تھی۔ورنہ ان کو کسی چیز کی کیا کمی تھی۔14 از اہلیہ صاحبہ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اس ناچیز کو حضرت اُم المومنین ، اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے قدموں میں تمھیں بتیس سال رہنے کا موقع اللہ تعالیٰ نے عطا فرمایا۔اس عرصہ میں حضرت اماں جان نے جو جو اس ناچیز کے ساتھ شفقت اور محبت اور مہربانیاں فرمائیں میری زبان میں طاقت نہیں کہ بیان کرسکوں چند ایک ان میں سے بیان کرتی ہوں۔جب میں 1919ء میں پٹیالہ سے آئی ہوں تو مجھے بوجہ حضرت اماں جان کے اعزاز کے بہت ہی شرم آتی تھی۔میں خیال کرتی تھی کہ اتنی بڑی ہستی کے پاس میں ناچیز کس طرح بیٹھوں۔لیکن حضرت اُم المومنین نے خود ہی بلا لیتیں اور فرما تھیں لڑکی کہاں بھاگی جا رہی ہو آؤ بیٹھ جاؤ۔پھر بہت ہی محبت کے ساتھ باتیں کرتیں اس طرح مجھے جو حجاب تھا وہ کم ہو گیا اور مجھے حضرت اماں جان کی محبت اور چہرہ مبارک کو دیکھ کر ایسا محسوس ہونے لگا کہ ساری دنیا کی محبت اس مبارک وجود میں بھری ہوئی ہے۔ہر روز کسی نہ کسی رنگ میں اس ناچیز کے ساتھ محبت کا اظہار فرما تیں رہتیں۔جب کبھی اپنے باغ میں تشریف لے جاتیں اور آم اور جامن لا تیں تو مجھے بھی ضرور بھیجتیں اور فرماتیں یہ ہمارے ڈاکٹر بھی ہیں اور ہمسایہ بھی ہیں۔جب کہیں تشریف لے جاتیں تو میرے لئے اور بچوں کے لئے تحفے ضرور لاتیں۔۲۷