سیرت حضرت اماں جان — Page 143
143 قبولیت دعا کے نشانات مکرم و محترم احمد الدین صاحب انور آف مغلپورہ لاہور تحریر کرتے ہیں: ۱۲ فروری ۱۹۴۷ء کو اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک بچی عطا فرمائی جس کا نام سعیدہ رکھا گیا۔چونکہ اس سے پہلے میرے سب بچے فوت ہو چکے تھے اور اس بچی کی صحت بھی خاص اچھی نہ تھی۔میں اکثر افسردہ رہتا تھا۔میں اور میری بیوی اس کی صحت اور درازی عمر کے لئے نہایت تضرع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کیا کرتے تھے۔وقت گزرتا گیا لیکن بچی کی صحت کسی طرح بھی اطمینان بخش نہ ہوئی۔چنانچہ ایک دن میری بیوی نے یہ ارادہ ظاہر کیا کہ وہ حضرت اماں جان کی خدمت اقدس میں حاضر ہو اور اُن سے بچی کی صحت کے لئے دعا کرنے اور اوراس کا نام تجویز کر دینے کی درخواست کرے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ ارادہ تکمیل سے پہلے ہی میری تسکین کا باعث ہوا اور مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ گویا سعیدہ روبصحت ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے لمبی عمر عطا فرما دی ہے۔سعیدہ کی عمر اس وقت قریباً تین ماہ ہوگی جب میری اہلیہ اسے لے کر حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔وہ کہتی ہیں کہ جس وقت میں حضرت اماں جان کی خدمت میں پہنچی تو آپ ایک لکڑی کے بڑے تخت پوش پر تشریف فرما تھیں اور چھالیہ کاٹ رہی تھیں۔میرے سلام کے جواب دینے کے بعد ایک چٹائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ”بیٹھ جاؤ۔چند لمحے آپ خاموش رہیں۔میں نے عرض کیا اماں جان میری بچی ہمیشہ بیمار رہتی ہے آپ اس کے سر پر ہاتھ پھیریں۔اس کی درازی عمر کے لئے دعافرما ئیں۔نیز اس کا نام آپ اپنی مبارک زبان سے تجویز فرمائیں۔اس پر آپ اپنا دست مبارک سعیدہ کے سر پر پھیر نے لگیں اور مجھ سے میرا نام دریافت فرمایا۔میں نے عرض کیا حمیدہ۔معاً آپ کی زبان سے نکلا تو بچی کا نام سعیدہ ( واضح رہے کہ اس سے پہلے بچی کا نام حضرت اماں جان پر ظاہر نہ کیا گیا تھا ) میں دل ہی دل میں سوچ کر کہ اماں جان کا تجویز کردہ نام وہی ہے جو ہم نے پہلے رکھا ہوا ہے بہت خوش ہوئی۔اس کے