سیرت حضرت اماں جان — Page 80
دعاؤں میں بے حد شغف تھا 80 60 پھر دعا میں بھی حضرت اماں جان کو بے حد شغف تھا۔اپنی اولا د اور دوسرے عزیزوں بلکہ ساری جماعت کے لئے جسے وہ اولاد کی طرح سمجھتی تھیں بڑے در دوسوز کے ساتھ دعا فرمایا کرتی تھیں اور اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے ان کے دل میں غیر معمولی تڑپ تھی۔اولاد کے متعلق حضرت اماں جان کی دعا کا نمونہ ان اشعار سے ظاہر ہے جو حضرت مسیح موعود نے حضرت اماں جان کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے اُن کی طرف سے اور گویا انہی کی زبان سے فرمائے۔خدا تعالیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے آپ عرض کرتے ہیں: کوئی ضائع نہیں ہوتا جو ترا طالب ہے کوئی رسوا نہیں ہوتا جو ہے جو یاں تیرا آسماں پر سے سے فرشتے بھی مدد کرتے ہیں کوئی ہو جائے اگر بندہ فرماں تیرا اس جہاں میں ہی وہ جنت میں ہے بے ریب و گماں وہ جو اک پختہ توکل سے ہے مہماں تیرا میری اولاد کو تو ایسی ہی کردے پیارے دیکھ لیں آنکھ ނ وہ چہرہ نمایاں تیرا عمر دے رزق دے اور عافیت و صحت بھی سب سے بڑھ کر یہ کہ پا جائیں وہ عرفاں تیرا اپنی ذاتی دعاؤں میں جو کلمہ حضرت اماں جان کی زبان پر سب سے زیادہ آتا تھا وہ یہ مسنون دعا تھی کہ: يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيْتُ یعنی اے میرے زندہ خدا اور اے میرے زندگی بخش آقا !میں تیری رحمت کا سہارا ڈھونڈتی ہوں۔یہ وہی جذبہ ہے جس کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ شعر فر مایا ہے کہ: