سیرت حضرت اماں جان — Page 51
51 دوستوں کو آجکل یہ دعا بھی ضرور کرنی چاہیئے کہ اگر حضرت اُم المومنین کی وفات کے ساتھ کوئی اور تلخ تقدیر بھی وابستہ ہوتو اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل و رحم سے ٹال دے اور جماعت کا حافظ و ناصر ہو۔آمین۔فقط والسلام خاکسار دستخط ( مرزا بشیر احمد ) دوسرا خط غیر احمدی اصحاب کے خطوں کے جواب میں ربوه ۱۵/۵/۱۹۵۲ مکرمی محترمی۔۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کی وفات پر آپ کی طرف سے ہمدردی کا خط پہنچا۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس ہمدردی کی جزائے خیر دے اور آپ کا اور آپ کے عزیزوں کا حافظ و ناصر ہو۔آمین والدین کا رشتہ ایک ایسا رشتہ ہے جس کا قدرت نے کوئی بدل پیدا نہیں کیا۔اسی لئے والدین کا سایہ ایک بہت ہی بابرکت سایہ ہوتا ہے۔اور ہماری والدہ محترمہ کا وجود تو ہمارے لئے خصوصیت کے ساتھ ایک نہایت ہی مبارک وجود تھا جس کے ساتھ کئی برکتوں کے سائے وابستہ تھے۔اور گو ہم اب بظاہر ان کی پاک صحبت سے محروم ہو گئے ہیں لیکن ہمیں یقین ہے کہ انشاء اللہ وفات کے بعد بھی ان کی درد بھری دعا ئیں ہمارا ساتھ دیں گی اور خدا کا فضل ہمارے شاملِ حال رہے گا۔حضرت اماں جان مرحومہ مغفورہ کو اللہ تعالیٰ نے بے حد پاک سیرت عطا کی تھی۔غریبوں اور بیکسوں کی ملجاء و ماوی۔مصیبت زدوں کی مونس و غمخوار۔خاندان اور جماعت کے لئے عافیت کا حصار۔اولاد کے لئے مجسم رحمت۔بلالحاظ امیر وغریب ہر شخص کے ساتھ انتہائی محبت و شفقت کے ساتھ ملنے والی۔صبر ورضا کا مجسمہ۔دن رات دعاؤں میں مشغول رہنے والی اور خدا اور رسول کی عاشق زار تھیں۔ہر شخص ماں رکھتا ہے اور فطرتا ہر شخص کو اپنی ماں سے محبت بھی ہوتی ہے مگر میں اس اظہار سے رک نہیں سکتا کہ: