سیرت حضرت اماں جان — Page 303
303 بروفات حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا از مکرم محمود احمد صاحب مبشر رکن بزم درویشان) آج کیوں ہیں دل ہمارے اس طرح سے بے قرار بے بسی ہے ہر طرف۔ہے آنکھ سب کی اشکبار مومنوں کے ہے دلوں پر آج غم چھایا ہوا ہے زمیں سہمی ہوئی ،اور چرخ مرجھایا ہوا جسم اُم المومنین ہوتا ہے مٹی میں نہاں آج دل ربوہ میں ہیں اور جسم ہیں خالی یہاں جب کبھی ”الدار میں ہوتا ہے یاں میرا گزر سہم جاتا ہے مرادل اس مکاں کو دیکھ کر جس کو کہتے ہیں کہ اُم المومنین کا ہے مکاں دل میں کہتا ہوں کہ ام المومنین اب ہیں کہاں کاش! اُمّ المومنین کی اور بڑھ جاتی عمر قادیاں کی واپسی پر بھی ہمیں آتے نظر قادیاں واپس ملے گا سب کے سب ہی آئینگے پر نہ اُم المومنین کو واپسی پر پائینگے ہائے کیسی نیک تھی ماں آپ تھی اپنی مثال ہم غریبوں کا جو رکھتی تھی ہمیشہ وہ خیال ہے یہ دنیا آنی جانی اور یہ موت وحیات آج آئے کل چلے ہے كُل نفس ذائقة الموت ہے قرآن میں ہر بشرفانی مبشـ ر اس جہانِ فان میں 9 سلسلہ کائنات