سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 302 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 302

302 میرے خدایا یہ کون سا تارا ہوا غروب تاریک و تار سانظر آنے لگا جہاں اے سرزمین ربوہ ! بتا کیوں اُداس ہے کس نے اٹھالیا ترے بستاں سے آشیاں (r) وہ ت جہاں خدا نے خدیجہ کہا جسے وابستہ جس کے دم سے ہوئی نصرت جہاں اپنے خدا کی پاک بشارات کی امیں پیکر وفا و سخا،مومنوں کی ماں تعبيريتــــ زوّج ويـــولـــدل یعنی خدا کے پاک مسیحا کی رازداں آئی تھی اپنے گھر میں تو سونا پڑا تھا گھر رخصت ہوئی ہے آج ہزاروں کے درمیاں (۳) پھر یاد آرہی ہے دیار مسیح کی بے اختیا رآنکھ سے آنسو ہوئے رواں وہ مقبرہ خدا نے بہشتی کیا جسے جس کی زمیں سے رفعت ہفت آسماں عیاں ہم آج اس فضا میں دعائیں نہ کر سکے اس بے بسی کو دیکھ اے آقائے دوجہاں (۴) کتنے چراغ راہ تھے جو بجھ گئے مگر سالار کارواں کا ابھی عزم ہے جواں ہر چند حادثات سے خوں ہو گیا ہے دل پیش نظر رہی ہے مگر ذات جاوداں تیرے جلو میں ایک دن آئیں گے ہم ضرور لے کر تری امانتیں اے ارضِ قادیاں ^