سیرت حضرت اماں جان — Page 21
21 لگے کہ یونہی بے سوچے سمجھے جلدی سے میرے منہ سے ایک بات نکل گئی تھی۔ورنہ میں تو حضرت اُم المومنین کی بابرکت زندگی کے لمبا ہونے کے لئے بہت دعا کرتا ہوں۔بہر حال میں اس موقعہ سے فائدہ اٹھا کر دوستوں کو بتا نا چاہتا ہوں کہ دعا میں یہ طریق بالکل درست نہیں ہے کہ خدایا جو بات تو پسند کرے وہی کر۔اور حقیقتہ ایسی دعا کو دعا کہنا ہی غلط ہے بلکہ دعا وہی ہے جس میں عزم اور امید کے ساتھ خدا تعالیٰ سے ایک معین خیر مانگی جائے اور جس چیز کو انسان اپنے علم کے مطابق بہتر اور بابرکت خیال کرتا ہے اسے عزم و جزم کے ساتھ اپنے خدا سے طلب کرے اور اس کے پورا کرنے کے لئے ظاہری تدابیر بھی اختیار کی جائیں اور اس کے بعد نتیجہ خدا تعالیٰ پر چھوڑا جائے یہی دعا کا صحیح نظریہ ہے جس پر ہر زمانہ میں انبیاء اور صلحاء کا عمل رہا ہے۔ہمارے آقا عدہ کیا خوب فرماتے ہیں کہ : اذادعا احدكم فليعزم المسئلة ولا يقولن اللهم ان شئت فاعطني فانه لا مستكره له۔( بخاری کتاب الدعوات حدیث نمبر 6338) د یعنی جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرنے لگے تو اسے چاہئے کہ اپنے سوال کو معین صورت دے کر اس پر پختگی سے قائم ہو اور ایسے الفاظ استعمال نہ کرے کہ خدایا اگر تو پسند کرے تو میری اس دعا کو قبول فرمالے۔کیونکہ خدا تو بہر حال اسی صورت میں دعا قبول کر گا کہ وہ اسے پسند ہو۔کیونکہ خدا سب کا حاکم ہے اور اس پر کسی کا دباؤ نہیں۔“ یہ ایک نہایت لطیف نفسیاتی نکتہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو سکھایا ہے اس حکیمانہ نکتہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ دعا میں مشروط یا ڈھیلے ڈھالے الفاظ کہہ کر اپنی دعا کے زور اور اپنے دل کی توجہ کو کمزور نہیں کرنا چاہئیے۔دراصل دعا کے واسطے انتہائی توجہ اور انہماک اور استغراق کی ضرورت ہوتی ہے۔گویا دعا کرنے والا اپنے کرب اور سوز کی تپش میں اپنی روح کو پگھلا کر خدا تعالیٰ کے آستانہ پر ڈال دیتا ہے کہ میرے آقا مجھے یہ چیز عطا کر۔لیکن مشروط یا ڈھیلے ڈھالے الفاظ سے کبھی بھی یہ کیفیت پیدا نہیں ہو سکتی۔اور پھر ایسی دعا خدا کی شان کے بھی خلاف ہے کہ ہم زمین و آسمان کے خالق و مالک اور اپنے رحیم و کریم آقا کے سامنے سوالی بن کر مانگنے کے لئے جائیں اور پھر اگر مگر کے دھوئیں میں اپنی دعا کو غائب کر کے ختم کر دیں۔