سیرت حضرت اماں جان — Page 250
250 کپڑا رکھ لیتے ہیں کہ بد بو نہ آئے۔اللہ رے رحم اور شفقت۔ام المومنین ہیں کہ جنہیں نہ ان سے بد بو ہی آتی ہے۔نہ اسے دیکھ کر کراہت ہی پیدا ہوتی ہے۔خود دوسرے چوتھے روز اسے نہلاتی ہیں۔صاف کپڑے پہناتی ہیں۔جوئیں نکالتی ہیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ پگی لڑکی جسے ہم جیمی جیمی“ کہتے تھے ( نام تو امتہ الرحیم تھا ) حضرت اُم المومنین کی اپنی ہی بیٹی ہے۔آپ کا یہ دست شفقت اس پر مہینہ دو مہینہ نہیں۔سال دو سال نہیں بلکہ اس وقت تک جب تک کہ وہ جوان ہوگئی۔اور آپ نے بچیوں کی طرح اس کی شادی کر دی۔حضرت اُم المومنین یتیموں اور مسکینوں کی پرورش یتامیٰ اور مسکین کے درجے کے مطابق ہی نہ کرتی تھیں۔بلکہ ان کو اپنے گھر میں اپنے بچوں جیسا درجہ دیتی تھیں۔اور گھر کے اپنے بچوں پر بھی یہ اثر ڈالا کرتی تھیں۔کہ وہ بھی زیر پرورش کو یتیم یا مسکین خیال نہ کریں۔بلکہ اپنا ایک بھائی یا بہن سمجھیں۔۱۲۲ مکرمہ امۃ الرحیم صاحبہ بنت حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی حضرت اماں جان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہایت اعلیٰ انتظامی قوتیں عطا ہوتی تھیں۔جس مجلس میں بیٹھتیں اشارے اشارے میں انتظامات درست ہوتے جاتے اور ہر کام کی تفصیلات میں دلچسپی لیتیں اور پایہ تکمیل تک پہنچاتیں۔جب مکرم مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ سابق امیر جماعت احمدیہ گورداسپور کی شادی اور دعوت ولیمہ ہوئی تو اس میں خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مستورات مبارکہ نے بھی شمولیت فرمائی۔حضرت اماں جان بنفس نفیس دعوت میں شامل تھیں اور بعض لڑکیاں بھی شریک دعوت تھیں۔کھانے کے دوران میں آپ کی نگاہ ہر عورت اور لڑکی پر پڑ رہی تھی اور آپ کے اشارے سے ہر ایک کی ضرورت پوری ہو رہی تھی۔لڑکیوں کی طرف آپ کی خاص نظر شفقت تھی۔عام طور پر ایسی دعوتوں میں بالخصوص مستورات میں کئی انتظامی خامیاں رہ جاتی ہیں اور باعث تکلیف ہو جاتی ہیں لیکن حضرت اماں جان کی محض موجودگی سے جملہ انتظامات نہایت عمدگی سے درست طور پر سرانجام پارہے تھے۔۱۲۳ ذوق لطیف اور خوشی محترمه امۃ الرشید شوکت صاحبه