سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 132 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 132

132 آتے ہیں۔مجھ سے دریافت فرمایا ” آپ مجھ سے کیا چاہتے ہیں میں نے عرض کیا ”حضور دعا فرما دیں کہ یہ مکان چھوڑ جاویں فرمایا ”اب میں کیڑوں کے لئے دعا کرتی پھروں میں نے عرض کیا حضور کی مرضی اس پر آپ آگے بڑھیں۔اور جہاں وہ کیڑے نکل رہے تھے۔کھڑے ہو کر فرمایا ( یعنی کیٹروں کو مخاطب کر کے ارے بھئی تم ان کو کیوں تکلیف دیتے ہو؟ پرے چلے جاؤ اس واقعے کے بعد میں سال بعد تک پاکستان کے قیام تک وہ مکان میرے قبضہ میں رہا مگر اس میں پھر کیڑے نہ آئے۔ایک اعجا ز نما واقعہ میں خلافت ثانیہ کے زمانہ میں جلسہ کے بعد ہمیشہ حضرت خلیفہ امسیح الثانی حضرت ام المومنین ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب، حضرت مرزا شریف احمد کو دعوت دیا کرتا تھا اور اس کا اہتمام حضرت اُم المومنین خود فرماتیں۔روٹی صرف لنگر سے پکتی۔باقی کھانے گھر میں تیار کر وائے جاتے تھے ایک سال ایسا واقعہ ہوا۔کہ میں نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی ، حضرت قمر الانبیاء، حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت مبارکہ بیگم صاحبہ سب گھر والوں کی دعوت کی چنانچہ گوشت و روٹی تو آپ نے لنگر خانے سے پکنے کا حکم دے دیا۔باقی زردہ پلاؤ اپنے باورچی خانے میں پکوایا۔یہ عرض کیا گیا تھا کہ تینوں صاحبان مسجد مبارک میں میرے ساتھ کھانا کھاویں۔اور باقی گھروں میں کھانا بھجوا دیا جائے۔چنانچہ آپ نے ایسا ہی فرما دیا جب مسجد میں کھانا کھانے کے لئے بیٹھے۔تو چونکہ میں نے سلسلہ کے تیرہ احباب کو دعوت دی ہوئی تھی۔وہ بھی شامل ہو گئے اور تینوں میاں صاحبان بھی شامل ہو گئے۔اس وقت میں نے حضرت اماں جان سے عرض کیا کہ سترہ آدمیوں کا کھانا بھجوا دیں۔آپ نے مجھے فرمایا۔کہ تم نے پہلے کیوں نہ کہا کہ دس بارہ اور آدمیوں کی بھی دعوت ہے۔میں نے گھروں میں جو کھانا بھجوایا وہ سینیوں میں کافی طور پر بھیج دیا۔میں نے عرض کیا کیا اب کھانا کم ہے۔آپ نے فرمایا سوائے زردہ کے باقی سب کھانا کافی ہے زردہ صرف چار پانچ آدمیوں کے لئے کافی ہے اس کے بعد آپ نے کھانا بھجوانا شروع کر دیا۔جب زردہ بھجوانے کا نمبر آیا تو آپ نے دیگچے کے منہ سے تھال اٹھا کر اپنا دوپٹہ اس پر ڈال دیا۔اور میری بیوی سے فرمایا کہ جلدی جلدی پلیٹیں کرتی جاؤ آپ تیزی سے زردہ پلیٹوں میں ڈالتی گئیں جب