سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 120 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 120

فرما دی تھیں۔120 اسی طرح آپ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے بشارت دی تھی۔کہ آپ کے فلاں فلاں اعضاء پر ضعف نہیں آئے گا۔نیز آپ کا خطر ناک طور پر بیمار ہو کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا سے شفا پا جانا اور آپ کی صحت کے لئے اللہ تعالیٰ کا دعائیہ الفاظ بتلانا یہ تمام امور بھی آپ کے نہایت بابرکت وجود ہونے پر دال ہیں۔مهمان نوازی حضرت اماں جان کی مہمان نوازی اور شفقت کا ذکر کرتے ہوئے چودھری صاحب محترم نے فرمایا کہ: حضرت خلیفہ اسیح اول کے زمانہ اوائل اگست ۱۹۱۱ء میں میں بغرض تعلیم لندن روانہ ہونے والا تھا۔اپنے والد صاحب اور والدہ صاحبہ کے ہمراہ قادیان پہنچا۔حضرت اماں جان نے ایک وقت کا کھانا خود اپنے ہاتھ سے پکا کر ہمیں بھجوایا۔اور اسی طرح دوسرے مہمانوں کے ساتھ بھی آپ کمال شفقت اور تواضع سے پیش آتیں۔اور مجھتیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔چنانچہ مہمانوں کے لئے ہر آرام اور آسائش کا خیال رکھتیں۔اور ان کی راحت کے پیش نظر خود چار پائیاں اٹھانے سے بھی دریغ نہ کرتیں۔حضرت اماں جان کی سادگی اور شگفتہ طبیعت کا ذکر کرتے ہوئے موصوف نے بیان فرمایا کہ۔ایک دفعہ حضرت اُم المومنین معہ خاندان جس میں چھوٹے بچے بھی کافی تھے۔سری نگر کشمیر تشریف رکھتی تھیں۔ایک دن حضرت اماں جان سیر کے لئے باہر تشریف لائیں۔تو میں نے حضرت اماں جان سے دریافت کیا۔کہ اتنے بچوں کو آپ کیسے پہچان لیتی ہیں۔تو آپ نے مسکراہٹ سے فرمایا۔کہ بڑے بچوں کے تو سب کے نام مجھے یاد ہیں اور چھوٹے بچوں کے متعلق اتنا جانتی ہوں کہ یہ سب اپنے ہی ہیں۔۱۳)