سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 83 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 83

83 دوسرے لوگوں کو اکثر کھانے پر بُلاتی رہتی تھیں۔اور اگر گھر میں کوئی خاص چیز پکتی تھی تو اُن کے گھروں میں بھی بھجوا دیتی تھیں۔خاکسار راقم الحروف کو علیحدہ گھر ہونے کے باوجود حضرت اماں جان نے اتنی دفعہ اپنے گھر سے کھانا بھجوایا ہے کہ اس کا شمار ناممکن ہے اور اگر کوئی عزیز یا کوئی دوسری خاتون کھانے کے وقت حضرت اماں جان کے گھر میں جاتی تھیں تو حضرت اماں جان کا اصرار ہوتا تھا کہ کھانا کھا کر واپس جاؤ۔چنانچہ اکثر اوقات زبر دستی روک لیتی تھیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مہمان نوازی اُن کی رُوح کی غذا ہے۔عیدوں کے دن حضرت اماں جان کا دستور تھا کہ اپنے سارے خاندان کو اپنے پاس کھانے کی دعوت دیتی تھیں اور ایسے موقعوں پر کھانا پکوانے اور کھانا کھلانے کی بذات خود نگرانی فرماتی تھیں اور اس بات کا بھی خیال رکھتی تھیں کہ فلاں عزیز کو کیا چیز مرغوب ہے۔اور اس صورت میں حشی الوسع وہ چیز ضرور پکواتی تھیں۔جب آخری عمر میں زیادہ کمزور ہوگئیں تو مجھے ایک دن حسرت کے ساتھ فرمایا کہ اب مجھ میں ایسے اہتمام کی طاقت نہیں رہی میرا دل چاہتا ہے کہ کوئی مجھ سے رقم لے لے اور میری طرف سے کھانے کا انتظام کر دے۔وفات سے کچھ عرصہ قبل جب کہ حضرت اماں جان بے حد کمزور ہو چکی تھیں اور کافی بیمار تھیں مجھے ہماری بڑی ممانی صاحبہ نے جو اُن دنوں میں حضرت اماں جان کے پاس اُن کی عیادت کے لئے ٹھہری ہوئی تھیں فرمایا کہ آج آپ یہاں روزہ کھولیں۔میں نے خیال کیا کہ شاید یہ اپنی طرف سے حضرت اماں جان کی خوشی اور اُن کا دل بہلانے کے لئے ایسا کہہ رہی ہیں چنانچہ میں وقت پر وہاں چلا گیا تو دیکھا کہ بڑے اہتمام سے افطاری کا سامان تیار کر کے رکھا گیا ہے اُس وقت ممانی صاحبہ نے بتایا کہ میں نے تو اماں جان کی طرف سے اُن کے کہنے پر آپ کو یہ دعوت دی تھی۔بے حد محنتی حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا میں بے حد محنت کی عادت تھی اور ہر چھوٹے سے چھوٹا کام اپنے ہاتھ سے کرنے میں راحت پاتی تھیں۔میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے بار ہا کھانا پکاتے۔چرخہ کاتے۔نواڑ بنے۔بلکہ بھینسوں کے آگے چارہ تک ڈالتے دیکھا ہے۔بعض اوقات خود بھنگنوں