سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 82 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 82

82 کوئی ایسا شخص تو نہیں تو عادی طور پر قرض مانگا کرتا ہے اور پھر قرض کی رقم واپس نہیں کیا کرتا۔ایسے شخص کو قرض دینے سے پر ہیز کرتی تھیں تا کہ اس کی یہ بُری عادت ترقی نہ کرے مگر ایسے شخص کو بھی حسب گنجائش امداد دے دیا کرتی تھیں۔ایک دفعہ میرے سامنے ایک عورت نے اُن سے کچھ قرض مانگا۔اُس وقت اتفاق سے حضرت اماں جان کے پاس اس قرض کی گنجائش نہیں تھی۔مُجھ سے فرمانےلگیں ”میاں ! ( وہ اپنے بچوں کو اکثر میاں کہہ کر پکارتی تھیں ) تمہارے پاس اتنی رقم ہو تو اسے قرض دے دو۔یہ عورت لین دین میں صاف ہے۔چنانچہ میں نے مطلوبہ رقم دے دی اور پھر اس غریب عورت نے تنگ دستی کے باوجود عین وقت پر اپنا قرضہ واپس کر دیا جو آجکل کے اکثر نوجوانوں کے لئے قابلِ تقلید نمونہ ہے۔یتا می گیری حضرت اماں جان نَوَّرَ اللهُ مَرْقَدَهَا کو اسلامی احکام کے ماتحت یتیم بچوں کی پرورش اور تربیت کا بھی بہت خیال رہتا تھا۔میں نے جب سے ہوش سنبھالا اُن کے سایہ عاطفت میں ہمیشہ کسی نہ کسی یتیم لڑکی یا لڑکے کو پلتے دیکھا۔اور وہ یتیموں کو نوکروں کی طرح نہیں رکھتی تھیں بلکہ اُن کے تمام ضروری اخراجات برداشت کرنے کے علاوہ اُن کے آرام و آسائش اور اُن کی تعلیم و تربیت اور ان کے واجبی اکرام اور عزت نفس کا بھی بہت خیال رکھتی تھیں۔اس طرح ان کے ذریعہ بیسیوں یتیم بچے جماعت کے مفید وجود بن گئے۔بسا اوقات اپنے ہاتھ سے قیموں کی خدمت کرتی تھیں۔مثلاً یتیم بچوں کو نہلا نا۔اُن کے بالوں میں کنگھی کرنا۔کپڑے بدلوانا وغیرہ وغیرہ۔مجھے یقین ہے کہ حضرت اماں جان رسول پاک ﷺ کی اس بشارت سے انشاء اللہ ضرور حصہ پائیں گی کہ أَنَا وَكَا فِلُ الْيَتِيمِ كَهَا تَيْنِ۔یعنی قیامت کے دن میں اور یتیموں کی پرورش کرنے والا شخص اس طرح اکٹھے ہوں گے جس طرح کہ ایک ہاتھ کی دو انگلیاں باہم پیوست ہوتی ہیں۔مهمان نوازی مہمان نوازی بھی حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے اخلاق کا طرہ امتیاز تھا۔اپنے عزیزوں اور