سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 81 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 81

81 تری رحمت ہے میرے مری جاں تیرے فضلوں کی جماعتی چندوں میں شوق سے حصہ لیتیں کا شہر گیر جماعتی چندوں میں بھی حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا بڑے ذوق وشوق سے حصہ لیتی تھیں اور تبلیغ اسلام کے کام میں ہمیشہ اپنی طاقت سے بڑھ کر چندہ دیتی تھیں۔تحریک جدید کا چندہ جس سے بیرونی ممالک میں اشاعت اسلام کا کام سرانجام پاتا ہے اُس کے اعلان کیلئے ہمیشہ ہمہ تن منتظر رہتی تھیں اور اعلان ہوتے ہی بلا توقف اپنا وعدہ لکھا دیتی تھیں بلکہ وعدہ کے ساتھ ہی نقد ادائیگی بھی کر دیتی تھیں اور فرمایا کرتی تھیں کہ زندگی کا اعتبار نہیں۔وعدہ جب تک ادا نہ ہو جائے دل پر بوجھ رہتا ہے۔دوسرے چندوں میں بھی یہی ذوق وشوق کا عالم تھا۔غرباء پروری صدقہ و خیرات اور غریبوں کی امداد بھی حضرت اماں جان نَوَّرَ اللَّهُ مَرْقَدَهَا کا نمایاں خلق تھا اور اس میں وہ خاص لذت پاتی تھیں اور اس کثرت کے ساتھ غریبوں کی امداد کرتی تھیں کہ یہ کثرت بہت کم لوگوں میں دیکھی گئی ہے۔جو شخص بھی اُن کے پاس اپنی مصیبت کا ذکر لے کر آتا تھا حضرت اماں جان اپنے مقدور سے بڑھ کر اُس کی امدا د فرماتی تھیں اور کئی دفعہ ایسے خفیہ رنگ میں مدد کرتی تھیں کہ کسی اور کو پتہ تک نہیں چلتا تھا۔اسی ذیل میں اُن کا یہ بھی طریق تھا کہ بعض اوقات یتیم بچوں اور بچیوں کو اپنے مکان پر بلا کر کھانا کھلاتی تھیں اور بعض اوقات اُن کے گھروں پر بھی کھانا بھجوا دیتی تھیں۔ایک دفعہ ایک واقف کار شخص سے دریافت فرمایا کہ کیا آپ کو کسی ایسے شخص (احمدی یا غیر احمدی، مسلم یا غیر مسلم ) کا علم ہے جو قرض کی وجہ سے قید بھگت رہا ہو ( اوائل زمانے میں ایسے Civil قیدی بھی ہوا کرتے تھے ) اور جب اس نے لاعلمی کا اظہار کیا تو فرمایا کہ تلاش کرنا میں اُس کی مدد کرنا چاہتی ہوں تا قرآن مجید کے اس حکم پر عمل کر سکوں کہ معذور قیدیوں کی مدد بھی کار ثواب ہے۔قرض مانگنے والوں کو فراخ دلی کے ساتھ قرض بھی دیتی تھیں مگر یہ دیکھ لیتی تھیں کہ قرض مانگنے والا