سیرت حضرت اماں جان — Page 79
79 12 اور یہی وہ سال ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعوئی مجددیت کا مغفوره اعلان فرمایا تھا اور پھر سارے زمانہ ء ماموریت میں حضرت اماں جان مرحومہ من حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رفیقہ ء حیات رہیں۔اور حضرت مسیح موعود اُنہیں انتہاء درجہ محبت اور انتہاء درجہ شفقت کی نظر سے دیکھتے تھے اور ان کی بے حد دلداری فرماتے تھے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ زبر دست احساس تھا کہ یہ شادی خدا کے خاص منشاء کے ماتحت ہوئی ہے اور یہ کہ حضور کی زندگی کے مبارک دور کے ساتھ حضرت اماں جان کو مخصوص نسبت ہے۔چنانچہ بعض اوقات حضرت اماں جان بھی محبت اور ناز کے انداز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کرتی تھیں کہ میرے آنے کے ساتھ ہی آپ کی زندگی میں برکتوں کا دور شروع ہوا ہے جس پر حضرت مسیح موعود مسکرا کر فرماتے تھے کہ ہاں یہ ٹھیک ہے۔دوسری طرف حضرت اماں جان بھی حضرت مسیح موعود کے متعلق کامل محبت اور کامل یگانگت کے مقام پر فائز تھیں اور گھر میں یوں نظر آتا تھا کہ گویا دوسینوں میں ایک دل کام کر رہا ہے۔آپ کی دینداری کا مقدم ترین پہلونماز اور نوافل میں شغف تھا حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے اخلاق فاضلہ اور آپ کی نیکی اور تقویٰ کو مختصر الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں مگر اس جگہ میں صرف اشارہ کے طور پر نمونہ چند باتوں کے ذکر پر اکتفاء کرتا ہوں۔آپ کی نیکی اور دینداری کا مقدم ترین پہلونماز اور نوافل میں شغف تھا۔پانچ فرض نمازوں کا تو کیا کہنا ہے حضرت اماں جان نماز تہجد اور نماز ضحی کی بھی بے حد پابند تھیں اور انہیں اس ذوق وشوق سے ادا کرتی تھیں کہ دیکھنے والوں کے دل میں بھی ایک خاص کیفیت پیدا ہونے لگتی تھی۔بلکہ ان نوافل کے علاوہ بھی جب موقع ملتا تھا نماز میں دل کا سکون حاصل کرتی تھیں۔میں پوری بصیرت کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ (فدا نفسی ) کی یہ پیاری کیفیت کہ جُعِلَتْ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوةِ یعنی میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔حضرت اماں جان کو بھی اپنے آقا سے ورثے میں ملی تھی۔