سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 71 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 71

71 بہشتی ہے۔پس آج بلا کم و کاست ربوہ کے اس قبرستان کو بھی وہی پوزیشن حاصل ہے۔جو قادیان کے مقبرہ بہشتی کو حاصل ہے۔اگر یہ کہا جائے۔کہ جب حضرت اُم المومنین کا جسدِ اطہر قادیان میں منتقل ہو جائے گا۔تو پھر ربوہ مقدس مقام رہے گا یا نہیں۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ جو مقام ایک دفعہ مقدس ہو جاتا ہے۔وہ ہمیشہ مقدس رہتا ہے۔اس مقدس مقام کے لوگ کسی وقت غیر مقدس ہو سکتے ہیں مگر اس مقام کا تقدس بہر حال قائم رہتا ہے۔ربوہ کی تعمیر اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل ہے تعمیر ربوہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ربوہ کی تعمیر اللہ تعالیٰ کا ایک بہت بڑا فضل اور احسان ہے درحقیقت پاکستان اور ہندوستان میں یہ واحد مثال ہے کہ اتنی جلدی ایک اکھڑی ہوئی قوم ایک مرکز اور ایک مقام میں جمع ہوگئی۔آج مخالف ربوہ کی تعمیر پر اعتراض کرتے ہیں۔لیکن یہ لوگ اس وقت کہاں تھے۔جب حکومت اس زمین کی خریداری کے متعلق اعلان کر رہی تھی ؟ چلو اس وقت کو جانے دو۔آج بھی اس سے سینکڑوں ہزاروں گنا زمین خالی پڑی ہے۔ہمارے مخالف یہ زمین لے کر اسے آباد کر کے دکھا دیں۔مگر زمین انہیں شرائط پر لیں۔جن پر ہم نے حاصل کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ آبادی روپے کے زور سے یا اور مادی اسباب کی وجہ سے نہیں ہوئی بلکہ یہ آبادی ان گڈری پوشوں اور ان کھدر پوشوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔جن کے دل ایمان سے منور تھے۔یہ ایمان اگر تمہیں حاصل ہو جائے۔تو ایک کیا کروڑ ر بوہ بھی تم آباد کر سکتے ہو۔لیکن اگر یہ ایمان نصیب نہیں ہوتا تو تم خواہ ہزار سال تک شور مچاتے رہو۔تم ایک ربوہ بھی آباد نہیں کر سکتے۔یہ آبادی ایسے حالات میں ہوئی ہے جبکہ ہم ہر طرح کی مشکلات سے دوچار تھے۔تعمیر کے لئے لکڑی نہیں ملتی۔اینٹیں نہیں ملتیں۔اسی طرح باقی سامان بھی بمشکل دستیاب ہوتا ہے۔لیکن باوجود اس کو تاہ دامنی کے آج سڑک پر ایک بڑا شہر آباد ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔حقیقت یہ ہے۔کہ جو کچھ ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کی برکتوں سے ہوا ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی برکتیں اسی کی دین ہیں۔محض حسد اور بغض اور کینہ سے کیا بنتا ہے۔ہمارے مخالف اگر ربوہ کی طرح شہر آباد کرنا چاہتے ہیں۔تو ہماری طرح خدا کے سامنے سجدوں میں گر جائیں۔بچے دل سے گڑ گڑا ئیں۔اور اسی سے مدد مانگیں۔اور دعا کریں۔کہ الہی