سیرت حضرت اماں جان — Page 70
70 خاتمہ مہدی کے ظہور پر ہو گا۔چنانچہ یہ کشف اس طرح پورا ہوا۔کہ آپ کی ہی اولاد میں سے حضرت اُم المومنین کا وجود پیدا ہوا۔یہ کشف خواجہ ناصر نذیر فراق کے بیٹے خواجہ ناصر خلیق نے اپنی کتاب ” میخانہ میں درج کیا ہے۔ایک شبہ کا ازالہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعدد الہامات کا بھی حضور نے ذکر فرمایا۔جن میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اُم المومنین کی فضیلت کا ذکر کیا ہے۔ان میں سے ایک یہ تھا: يَا أَحْمَدُ اسْكُنُ أَنْتَ وَ زَوْجَكَ الْجَنَّةَ حضور نے اس الہام کے متعلق فرمایا۔اس سے یہ شبہ ہوسکتا ہے کہ اس میں تو حضرت مسیح موعود اور حضرت اُم المومنین دونوں کے اکٹھے جنت میں رہنے کی خبر ہے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام قادیان میں دفن ہوئے۔اور حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا یہاں دفن ہیں۔سو اس شبہ کا پہلا جواب تو یہ ہے۔کہ مختلف مقامات میں فوت ہونے والے اور دفن ہونے والے جنت میں اکٹھے ہی ہوتے ہیں۔اور دوسرا جواب یہ ہے۔کہ اس میں یہی تو پیشگوئی ہے۔کہ گو حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کسی اور جگہ دفن ہوں گی۔مگر اے مومنو! تسلی رکھو۔کہ ہم انہیں ضرور واپس قادیان لے جائیں گے اور وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس وہ دفن ہوں گی۔پس اس میں تو قادیان کی واپسی کی بھی خبر ہے۔اور مومنوں کو امید دلائی گئی ہے کہ تم ضرور وہاں جاؤ گے۔پھر مجھے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مثیل قرار دیا ہے۔گو مامور نہ ہونے کی وجہ سے میں کبھی اس پر زور نہیں دیتا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ہجرت میں میرے ساتھ رکھ کر مسیح کے ساتھ میری ایک اور مماثلت نمایاں کر دی۔اور وہ یہ کہ جس طرح مسیح اول کی ہجرت کے وقت ان کی والدہ ان کے ہمراہ تھی۔اسی طرح مسیح ثانی کے مثیل کے ساتھ اس کی والدہ کو بھی ہجرت کرنا پڑی۔حضور نے فرمایا۔حضرت اُم المومنین کے جنت میں رہنے کے الہام سے یہ بھی ثابت ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مدفن مقبرہ بہشتی ہے۔اسی طرح حضرت ام المومنین کا مدفن بھی یقینی طور پر مقبرہ