سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 69 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 69

69 يا أخمد اسكن أنت وزوجك الجنة خدا تعالیٰ نے حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا کو ہجرت پاکستان میں سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ رکھ کر حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ ایک اور مشابہت پوری کر دی۔سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کا فرمودہ ذکر خیر بر موقعہ جلسہ سالانہ ۲۷/دسمبر ۱۹۵۲ء۔سید نا حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس سال احمدیت کی تاریخ کا بہت ہی اہم واقعہ ہوا ہے۔اور وہ ہے حضرت اُم المومنین کی وفات۔ان کا وجود ہمارے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درمیان ایک زنجیر کی طرح تھا۔اولاد کے ذریعے بھی ایک تعلق اور واسطہ ہوتا ہے۔مگر وہ اور طرح کا ہوتا ہے۔اولا دکو ہم ایک درخت کا پھول تو کہہ سکتے ہیں۔مگر اسے اس درخت کا اپنا حصہ نہیں کہا جاسکتا۔پس حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا ہمارے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درمیان ایک زندہ واسطہ تھیں۔اور یہ واسطہ ان کی وفات سے ختم ہو گیا۔پھر حضرت اُم المومنین کے وجود کی اہمیت عام حالات سے بھی زیادہ تھی۔کیونکہ ان کے متعلق خدا تعالیٰ نے قبل از وقت بشارتیں اور خبریں دیں۔چنانچہ انجیل میں آنے والے مسیح کو آدم کہا گیا ہے۔اس میں یہ بھی اشارہ تھا کہ جس رنگ میں حوا آدم کی شریک کا رتھی۔اسی طرح مسیح موعود کی بیوی بھی اس کی شریک کار ہوگی۔پھر رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے۔کہ آنے والا مسیح شادی کرے گا اور اس کی اولاد ہوگی۔اب شادی تو ہر نبی کرتا ہے۔صاف ظاہر ہے کہ اس خبر میں یہی اشارہ تھا۔کہ اس کی بیوی کو یہ خصوصیت حاصل ہوگی کہ وہ اس کے کام میں اس کی شریک ہوگی۔اسی طرح دتی میں ایک مشہور بزرگ خواجہ میر ناصر گزرے ہیں۔ان کے متعلق آتا ہے کہ ان کے پاس کشف میں حضرت امام حسن تشریف لائے۔اور انہوں نے ایک روحانیت کی خلعت دیتے ہوئے فرمایا۔کہ یہ تحفہ ایسا ہے۔جس میں تم مخصوص ہو۔اس کی ابتداء تم سے کی جاتی ہے اور اس کا