سیرت حضرت اماں جان — Page 54
54 اس المناک خبر سے اطلاع دی گئی اور جنازہ کا وقت بتلایا گیا۔چنانچہ بعض مقامات سے جواب بھی آئے۔قادیان میں بمطابق وقت پاکستان نماز جنازہ مسجد اقصلے میں پڑھائی گئی۔اور اس کے بعد ایک جلسہ منعقد کیا گیا۔جس میں حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے سوانح اور سیرت پر بعض دوستوں نے تقریریں کیں اور بعض دوستوں نے آپ کی وفات پر جو نظمیں لکھی تھیں وہ سنائی گئیں۔ان میں محمود احمد صاحب مبشر کی نظم ایسے پیرایہ میں لکھی ہوئی تھی کہ جب وہ پڑھ کر سنائی گئی تو سب دوست بے چین ہو کر دور ہے تھے۔یہ نظم ساتھ ہی درج ہے۔قادیان کے پرانے ہندوؤں میں سے لالہ داتا رام ولد لالہ ملا وامل صاحب اور سردار جوند سنگھ اور سیٹھ پیارے لال ولد سیٹھ گھنیا لال و بانکے لال و لالہ ہری رام بزاز وسیٹھ آگیا رام صراف اور پنڈت لال چند حلوائی افسوس کرنے کے لئے ہمارے پاس آئے۔اسی طرح ہر دو مقامی تھانیداری آئی بی انچارج چوکی معہ انچارج نور ہسپتال بھی افسوس کے لئے دار اسیح میں تشریف لائے۔اسی طرح بعض مستورات جو ہمارے پڑوس میں رہتی ہیں یا جن کے خاندان اور جماعت کے ساتھ تعلقات تھے برائے افسوس آئیں۔اسی طرح دوسرے اور اصحاب ہندوؤں اور سکھوں میں سے بھی افسوس کیلئے ملتے رہے۔( دستخط ) عبدالرحمن ( امیر قادیان ) مؤرخه ۲۴/۴/۱۹۵۲ ۱۰