سیرت حضرت اماں جان — Page 53
53 3 حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی قادیان میں تعزیت از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے ربوہ ) حضرت اُم المومنین ادام اللہ فیوضہا کی بیماری کی خبر تار کے ذریعہ با قاعدہ قادیان میں دی جاتی تھی اور پھر وفات کی خبر بھی بذریعہ ایکسپریس تار دی گئی۔قادیان کے مخلص اور فدائی درویشوں کو ان کے مخصوص ماحول میں جانکاہ واقعہ کا جو صدمہ ہواوہ بیان سے باہر ہے۔ان میں حضرت بھائی چودھری عبدالرحیم صاحب نو مسلم اور حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی جیسے قدیم اور بزرگ صحابی بھی شامل ہیں۔اور حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کا پوتا عزیز مرزا وسیم احمد سلمہ بھی ہے۔اور محترمی مولوی عبدالرحمن صاحب امیر قادیان بھی ہیں جن کا ان کے خسر مرحوم شیخ حامد علی صاحب اور ساس مرحومہ (جو میری رضاعی ماں تھیں ) کی وجہ سے حضرت اماں جان کے ساتھ خاص تعلق تھا۔اس تعلق میں مجھے جو خط مولوی عبدالرحمن صاحب امیر قادیان کا موصول ہوا ہے وہ دوستوں کی اطلاع کے لئے درج ذیل کیا جاتا ہے۔خاکسار مرزا بشیر احمد ، ربوہ ۲۹/۴/۱۹۵۲ حضرت اماں جان کی فوتیدگی سے مجھے اور دوسرے درویشوں کو جو صدمہ ہوا ہے اس کے متعلق وہی جان سکتا ہے جو قادیان میں ہو اور کیوں نہ ایسا ہوتا جبکہ ہم سب کا آپ سے ایک خاص روحانی واسطہ تھا باقی میں تو ان کے پاس ہی پلا ہوں اور ان کی مجھ پر اور میری ممانی صاحبہ مرحومہ (یعنی ساس صاحبہ ) پر جو مہر بانیاں اور شفقتیں تھیں ان کو میں ہی جانتا ہوں اور اسی شفقت کا نتیجہ تھا کہ حضور اماں جان مہینہ میں ایک دو دفعہ میرے غریب خانہ میں تشریف لا کر میری ممانی صاحبہ کے پاس بیٹھ کر باتیں کیا کرتی تھیں۔قادیان میں آپ کی تار پہنچتے ہی تمام دفاتر بند ہو گئے اور جملہ جماعتہائے ہندوستان کو بذریعہ تار