سیرت حضرت اماں جان — Page 50
50 50 پہلا خط احمدی بھائی بہنوں کے خطوں کے جواب میں بسم اللہ الرحمن الرحیم ربوه ۱۵/۵/۵۲ مکر می محتر می مکرمه محترمه وعلى عهد واسع الموجود محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت اُم المومنین ادام اللہ فیوضہا کی وفات پر آپ کی طرف سے ہمدردی کا خط موصول ہوا۔حقیقہ یہ ہم سب کا مشترکہ صدمہ ہے اس لئے طبعاً ایسے موقع پر ایک دوسرے کی ہمدردی اور دعاؤں کا سہارا بڑی تسلی کا موجب ہوتا ہے۔فجزاکم اللہ احسن الجزاء فی الدنیا والآخرة۔حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کا وجود جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور واقعات سے ظاہر ہے بڑی برکات کا مجموعہ تھا۔پس اب جب کہ یہ مبارک وجود ہماری ماڈی نظروں سے اوجھل ہو گیا ہے ہمیں خصوصیت کے ساتھ دعا کرنی چاہیئے کہ حضرت اماں جان کی برکات اور فیوض کا سلسلہ ہمارے لئے اب بھی اسی طرح جاری رہے بلکہ آگے سے بڑھ کر جاری رہے۔کیونکہ طبعا اس اولاد کو شفقت اور رافت کی زیادہ پیاس ہوتی ہے جو اپنے والدین کی وفات کی وجہ سے اُن کی ظاہری محبت سے محروم ہو جاتی ہے۔خدا کرے کہ ہم حضرت اُم المومنین اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بچے وارث بن کر اور ان کے نقش قدم پر چل کر خدا تعالیٰ کے فضلوں اور رحمتوں اور برکتوں سے بیش از بیش حصہ پاتے رہیں اور جب ہمارا سفر آخرت پیش آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیں دیکھ کر خوش ہوں کہ میرے پیچھے میری جسمانی اور روحانی اولاد نے خدائی امانت کو ضائع نہیں کیا اور میرے نام اور کام کو زندہ رکھا اور روشن کیا ہے۔میں آپ کی محبت اور ہمدردی کا دوبارہ شکریہ ادا کرتا ہوں۔اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے حق میں بھی حضرت اُم المومنین کی ان تمام دعاؤں کو قبول فرمائے جو وہ اپنی زندگی میں جماعت کے لئے فرماتی رہی ہیں۔اور آپ اور ہم سب اُن انعاموں سے پورا پورا حصہ پائیں جو ازل سے خدا تعالیٰ کے مقبول بندوں کے لئے مقدر ہیں۔آمین یا ارحم الراحمین۔