سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 45 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 45

45 45 کمزور ہونا شروع ہو گیا۔بالآخر ساڑھے گیارہ بجے شب حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کی روح اپنے مولائے حقیقی کے حضور پہنچ گئی۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون - بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر وفات کے وقت حضرت اُم المومنین کی اولاد میں سے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ، حضرت مرزا بشیر احمد صاحب مدظلہ، حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ اور حضرت امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ آپ کے پاس موجود تھے۔البتہ حضرت مرز ا شریف احمد صاحب اس وقت موجود نہ تھے۔آپ چند دن قبل ربوہ آکر لاہور واپس تشریف لے گئے تھے۔اور وفات کی خبر پانے کے بعد ربوہ پہنچے۔وفات کے وقت حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کی عمر پچاسی اور چھیاسی سال کے درمیان تھی۔آپ دہلی کے ایک مشہور سید خاندان سے تعلق رکھتی تھیں جس کا سلسلہ حضرت خواجہ میر درد سے ملتا ہے۔آپ کی شادی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ ۱۸۸۴ء میں ہوئی۔جس وقت کہ آپ کی عمر ۱۸ سال کی تھی۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد جو ۱۹۰۸ میں ہوا چوالیس سال زندہ رہیں اور اپنی تمام زندگی میں کامل تقویٰ طہارت۔صبر ورضا اور توکل الی اللہ کا نمونہ دکھا یا بیماری کے ایام میں بھی جبکہ بیماری کے سخت سے سخت حملے ہوتے رہے دریافت کرنے پر آپ ہمیشہ یہی فرماتی رہیں کہ طبیعت اچھی ہے اور کبھی کوئی کلمہ بے صبری کا زبان پر نہیں لائیں۔بلکہ نہایت ہمت اور صبر کے ساتھ بیماری کے ایام گزارے۔ہمدردی کے پیغامات پاکستان اور ہندوستان کے مختلف مقامات سے ہمدردی کی سینکڑوں تاریں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز ، ناظر صاحب اعلیٰ اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دیگر افراد کے نام پہنچ چکی ہیں۔اور پہنچ رہی ہیں۔تاروں کا رش دیکھ کر محکمہ تار نے حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی بیماری کے ایام سے ہی ایک سکنیلر عارضی طور پر بوہ میں زیادہ کر دیا تھالیکن دوسکنیر وں کے باوجود تاروں کی اتنی کثرت ہے