سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 36 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 36

36 اے میرے خدا تو سمیع وعلیم ہے اور مضطر کی دعاؤں کو ضرور سنتا ہے۔ہمیں یقین کامل ہے کہ جو دعائیں اور صدقات خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احباب جماعت نے اپنی پیاری ماں کی صحت اور درازی عمر کے لئے کئے وہ ضرور تیرے حضور شرف قبولیت حاصل کر گئے ہیں۔گو ظاہری شکل میں وہ نتیجہ نہ نکلا جس کے لئے خاندان اور جماعت تیرے حضور ملتی ہوئے کیونکہ تیری تقدیر مبرم تھی۔اور ہمیں یقین ہے کہ ہماری وہ دعائیں ہماری اماں جان کے درجات بہت بلند کریں گی۔لیکن اے ہمارے آقا ! ہم تجھ سے التجا کرتے ہیں کہ ہم اپنی پیاری محبت کرنے والی ماں کی دعاؤں سے اب ہمیشہ کے لئے محروم رہ گئے ہیں۔سو تو اس کا بدل ہمیں ایسے رنگ میں جس کو تو ہی بہتر جانتا ہے عطا فرما کہ ہم اپنی پیاری ماں کی ان محبت بھری دعاؤں سے محروم نہ رہ جائیں۔اور اُن کی دعائیں ان کی وفات کے بعد بھی ہمارے ہر حال میں ہمارے ساتھ شامل رہیں۔آمین یا رب العالمین !۔اے میرے پیارے خدا اب میرا جسمانی تعلق میری پیاری اماں جان سے منقطع ہو چکا ہے اور ان کو پیغام پہنچانے کا میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں سوائے اِس کے کہ تو اپنے اس گناہ گار بندے پر رحم فرماتے ہوئے اس کا یہ پیغام اس کی اماں جان کو پہنچا دے کہ میری پیاری اماں جان! میں نے آپ کو بیماری میں ٹیکے کر کر کے بہت تکلیف پہنچائی۔مگر میری اماں جان! میں یہ سب کچھ صرف اسی لئے کر رہا تھا کہ شاید آپ کو صحت ہو جائے اور آپ کچھ عرصہ اور ہم لوگوں میں رہیں۔آپ کو ٹیکے کرتے وقت خود میرا دل ایک سخت چھن محسوس کرتا تھا۔مگر میں مجبور تھا اماں جان مجھے معاف فرمائیں تا میرا خدا بھی مجھے معاف فرمادے آمین یارب العالمین۔نوٹ از حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ مجھے یہ خوشی اور اطمینان بھی اس حالت غم میں حاصل ہوتا رہا کہ میرے پیارے منو رکو جو علاوہ بھتیجا ہونے کے میر اداماد اور فرزند عزیز ہے، اماں جان کی خدمت کا اس قدر موقع حاصل ہوا ہے۔جب پہلے طبیعت بعد السلام علیکم پوچھتے نہایت نرم آواز میں کہتے۔اماں جان طبیعت کیسی ہے؟ اور جواب سن کر پھر بعد ، بلڈ پریشر دیکھنے کا سلسلہ شروع کرتے۔