سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 22 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 22

22 بے شک بعض استثنائی حالات میں آنحضرت ﷺ نے مشروط دعا کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔مثلاً اگر کوئی شخص اپنے بڑھاپے یا بیماری یا مصائب سے تنگ آ کر اپنی زندگی کو اپنے لئے ایک بوجھ خیال کرے تو آپ نے فرمایا ہے کہ اگر ایسی حالت میں ایسا شخص اپنے لئے معین بہتری کی دعا نہ کر سکے تو پھر وہ بصورت مجبوری ایسی دعا کر سکتا ہے کہ خدا یا اگر میرے واسطے زندگی بہتر ہے تو مجھے زندہ رکھ۔لیکن اگر زندگی بہتر نہیں ہے۔تو مجھے وفات دے کر اپنے پاس بلا لے۔لیکن یہ ایک استثنائی صورت ہے جس میں ایک مایوس انسان کے لئے جو یہ طاقت نہیں رکھتا انتہائی مایوسی میں گرنے کا رستہ بند کیا گیا ہے ورنہ عام حالات میں ایک مومن اور مسلمان صحیح اور مسنون رستہ یقیناً یہی ہے کہ وہ عزم کے ساتھ معین صورت میں دعا مانگے۔پس دوستوں کو چاہئے کہ اپنے خدا پر حسن ظنی رکھتے ہوئے اور اسے ہر بات پر قادر خیال کرتے ہوئے جس چیز کو بھی اپنے لئے بہتر اور بابرکت خیال کریں اسے معین صورت میں عزم و جزم کے ساتھ خدا سے مانگیں یہی وہ وسطی نقطہ ہے جس پر خدا کی خدائی اور بندے کی بندگی کی مثالیں ملتی ہیں۔اس موقعہ پر اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ حضرت اُم المؤمنین اطال اللہ ظلہا کی بیماری بہت تشویش ناک صورت اختیار کر چکی ہے۔بدنی طاقت انتہا درجہ کمزور ہو چکی ہے اور بیماری کا مقابلہ کرنے کی طاقت بے حد گر چکی ہے۔دوسری طرف حضرت اماں جان کے وجود کی برکتیں ظاہر وعیاں ہیں۔خدا تعالیٰ نے اپنے مبارک کلام میں حضرت اُم المومنین کے وجود کو گویا نعمتوں کا گہوارہ قرار دیا ہے اور پھر ایک جہت سے اس بات میں بھی شک نہیں کہ حضرت اماں جان کا وجود وہ آخری تار ہے جس کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جسمانی رشتہ اس وقت دنیا میں قائم نظر آ رہا ہے۔پس دوستوں کو چاہیئے کہ خصوصیت کے ساتھ حضرت اماں جان کی صحت کے لئے دعائیں کریں اور جہاں جہاں ممکن ہو اجتماعی دعا کا بھی انتظام کیا جائے جیسا کہ قادیان کے دوستوں نے کیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کا حافظ و ناصر ہواور ہمارے سروں کے ٹھنڈے اور با برکت سائے کو تا دیر سلامت رکھے۔آمین یا ارحم الراحمین۔خاکسار مرزا بشیر احمد۔ربوہ ۲۔اپریل ۱۹۵۲ء 1