سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 20 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 20

20 20 حضرت اماں جان کیلئے خاص دعا کی تحریک ۱۹۵۱ء کے آخر میں حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا علیل ہوگئیں۔احباب جماعت نے آپ کی صحت کاملہ و عاجلہ کیلئے غیر معمولی دعاؤں اور صدقات پر زور دیا۔اس دوران احباب جماعت کیلئے خصوصی دعاؤں کی تحریک کی گئی۔ذیل میں بعض تحریکات کا ذکر پیش ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے تحریر فرماتے ہیں: آج ایک دوست جو صحابی ہیں اور چند دن سے ربوہ میں تشریف لائے ہوئے ہیں۔مجھے ملے اور حضرت اماں جان اُم المومنین اطال اللہ ظلہا کی خیریت دریافت کی۔میں نے عرض کیا کہ رات بخار بھی تیز ہو گیا تھا اور کمزوری بھی بہت زیادہ ہوگئی ہے اور کبھی کبھی کچھ غفلت کی حالت بھی ہو جاتی ہے۔بہت دعا کرنی چاہئیے۔فرمانے لگے میں تو یہ دعا کرتا ہوں کہ خدایا اگر تیرے علم میں حضرت اُم المومنین کی زندگی بہتر ہے تو انہیں شفا عطا فرما اور جو بات تیرے علم میں بہتر ہے وہی ہو۔اس پر میں نے کسی قدر تلخی سے کہا کہ جب آپ کے لڑکے نے گذشتہ سال فلاں امتحان دیا تھا گذشتہ سال ان کے ایک بچے نے ایک اعلیٰ امتحان میں شرکت کی تھی اور خدا کے فضل سے پاس بھی ہو گیا تھا ) تو کیا آپ نے اس کے لئے یہی دعا کی تھی اور ہم سے بھی اسی دعا کی توقع رکھتے تھے کہ خدا یا اگر اس کا پاس ہونا بہتر ہو تو اسے کامیاب فرماور نہ جو تیری مرضی ہو۔اس پر یہ دوست شرمندہ ہو کر اور گھبرا کر فرمانے لگے کہ نہیں ایسا تو نہیں۔میں نے کہا تو کیا پھر حضرت اماں جان اُم المومنین کی زندگی کا سوال ہی ایسا ہے کہ آپ اس کے لئے خود اپنی طرف سے کوئی کلمہ خیر زبان پر نہ لاسکیں اور ایک طرف تو خدا کے سامنے دعا کے لئے ہاتھ اُٹھا ئیں اور دوسری طرف اس سے یہ عرض کریں کہ خدایا جو تو چاہتا ہے وہی کر۔یہ تو کوئی دعا نہ ہوئی بلکہ گویا تو تکل کا عامیانہ پہلو ہو گیا اور پھر اس نظریہ کے تحت تو علاج وغیرہ کی بھی کوئی ضرورت نہیں رہتی۔کیونکہ بہر حال جو خدا چاہے گا وہی ہوگا۔خیر یہ دوست بہت شرمندہ ہوئے اور اپنے غلط خیال سے توبہ کی اور فرمانے