سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 245 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 245

245 مکرمہ عزیز بخت صاحبہ اہلیہ حضرت مولانا غلام رسول را جیکی سب سے پہلے مجھے حضرت ممدوحہ کی زیارت کا شرف لاہور میں حاصل ہوا۔حضرت اماں جان ان دنوں حضرت میاں چراغ الدین صاحب کے مکان میں فروکش تھیں۔میں نے حاضر ہوکر سلام عرض کرنے کے بعد کچھ پھل اور نقدی پیش کی۔آپ نے محبت اور شفقت سے اپنے پاس بٹھایا۔مولوی صاحب کی خیریت دریافت فرمائی اور میرے خاندانی حالات پوچھتے رہے۔۱۲ بجے دو پہر مکرم میاں معراج الدین صاحب عمر کے ہاں آپ کی دعوت تھی۔وہاں مجھے بھی ساتھ لے گئے۔مغرب کی نماز ادا کرنے کے بعد مجھے اپنے ساتھ کھانا کھلایا۔اس کے بعد خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کی بیوی آپ کے جسم کو دبانے لگی۔میں نے بھی دبانا چاہا لیکن خواجہ صاحب کی بیوی نے منع کر دیا۔کہ تمہیں دبانا نہیں آتا۔لیکن حضرت اماں جان نے فوراً میری دلجوئی کی خاطر فرمایا۔’ فاطمہ ! تم چھوڑ دو اور ان کو دبانے دو۔میں آپ کی اس شفقت سے جو پہلے ہی دن آپ نے مجھ پر فرمائی بے حد متاثر ہوئی۔انہی دنوں لاہور میں جماعت کا ایک جلسہ تھا۔جس میں شمولیت کے لئے بہت سے مہمان بیرون سے آئے ہوئے تھے۔ان مہمانوں کا کھانا پک رہا تھا۔حضرت اماں جان بھی وہاں تشریف لے گئیں اور سالن پکانے اور آٹا گوندھنے کی خدمت کو بڑی مسرت سے سرانجام دیتی رہیں۔مجھے بھی آپ نے اپنے ساتھ کام میں شریک رکھا۔فالحمد لله على ذلك ۱۱۴ ایک دفعہ میں جلسہ سالانہ پر لاہور سے قادیان حاضر ہوئی۔حضرت اماں جان نے اپنے مکان میں ٹھہرایا۔میرے ساتھ ایک ہی کمرہ میں مکرمی ماسٹر محمد علی صاحب بی اے۔بی ٹی کی مرحومہ بیوی اور نواب بیگم صاحبہ اہلیہ قاضی محمد یوسف صاحب اور دو اور مستورات تھیں۔حضرت اماں جان کچھ کھانا گھر پکواتے اور کچھ لنگر سے منگواتے اور ہمارے ساتھ مل کر کھانا تناول فرماتے۔میں اس موقع پر کئی دن قادیان ٹھہری۔اس عرصہ میں حضرت ممدوحہ کا یہی معمول رہا۔آپ انگیٹھی اور تو ا پاس رکھ لیتیں اور روٹیاں گرم کر کر کے ہمیں کھانے کے لئے دیتی جاتیں اور خود بھی کھا تھیں۔اس وقت جو شفقت اور محبت آپ کے چہرہ سے ظاہر ہوتی تھی وہ کبھی نہیں بھول سکتی۔۱۱۵ حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب تحریر کرتے ہیں میری بیوی ہاجرہ مرحومہ سے بہت محبت کا سلوک فرماتی تھیں۔اور اکثر ہمارے گھر میں تشریف