سیرت حضرت اماں جان — Page 230
230 از مکرمه امتہ العزیز ارشد صاحبه زریں نصائح میری دوسری والدہ محترمه سردار بیگم صاحبہ مرحومہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت بابرکت میں رہتی تھیں۔اس لئے حسب فرصت مجھے اور میرے بچوں کو بھی اکثر حضرت اماں جان کی زیارت و صحبت نصیب ہوتی۔آپ میرے بچوں سے نہایت بے تکلفی سے اپنے بچوں کی طرح پیش آتیں اور مجھے بھی کبھی غیر نہ سمجھا۔جب میری شادی (رخصتانہ ) ہوا۔اور میں اپنے میاں کے ہاں آئی۔تو حضرت اماں جان ہمارے ہاں تشریف لائیں۔اور فر مایا کہ دیکھو بیٹی ! میں ایک نصیحت کرتی ہوں۔کہ کبھی اپنے میاں سے ناجائز مطالبات اور ایسی فرمائش نہ کرو۔جواس کی حیثیت و طاقت سے بڑھ کر ہو مثلاً فلاں قیمتی کپڑا یا چیز لا دو۔یا فلاں زیور بنوا دو۔جس سے اس پر بوجھ پڑے۔کیونکہ اس سے مردوں کے لئے بدیانتی و بے ایمانی کا رستہ کھلتا ہے۔کہ وہ بیوی کی ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کرنے کیلئے ادھر اُدھر ہاتھ پاؤں مارتے یا قرضہ اٹھا کر مطالبہ پورا کرتے ہیں۔جس کا انجام نہایت خطرناک و مہلک ہوتا ہے۔اس لئے اپنے پاؤں چادر کے مطابق پھیلاؤ۔اور کبھی زیر بار نہ ہو۔نہ اپنے خاوند کو ہونے دو سینگی ترشی اور صبر و استقلال سے گزارہ کرو۔قرضہ سے ہمیشہ بچو۔اور حتی الوسع کبھی قرض نہ لو۔دوسری بات میری طرف سے رشید (خاوند) کو کہ دینا کہ اگر اس کے پاس دفتر کی رقم ہوا کرے۔تو اسے کبھی ذاتی یا گھر کی ضرورت پر خرچ نہ کرے۔نہ دفتر کا روپیہ ذاتی روپیہ کے ساتھ ملا کر رکھے۔بلکہ بالکل علیحدہ رہنے دے۔آپ چغل خوری اور غیبت یا کسی کی غیر حاضری میں اس کی شکایت وغیرہ کو سخت نا پسند فرما تیں۔بلکہ اس سے بے حد نفرت تھی۔چنانچہ ایک مرتبہ کسی عورت کو اس کے کسی نقص کی طرف توجہ دلا کر اصلاح کی نصیحت کی۔تو اس نے کسی خاتون کا نام لے دیا۔کہ اس نے آپ کو کہا ہوگا۔حالانکہ اس