سیرت حضرت اماں جان — Page 220
220 مکرمہ عزیز بخت صاحبہ اہلیہ حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی ایک دفعہ میری ہمشیرہ صاحبہ ایک کھیں گاؤں سے خاص طور پر بنوا کر لائیں۔وہ چار خانوں والا تھا۔میں نے حضرت اماں جان کی خدمت میں پیش کیا۔آپ نے قبول فرمایا اور حضرت سیدہ امتہ الحفیظ صاحبہ کو بھجوادیا۔بعد میں ایک دن مجھے فرمایا کہ وہ کھیں میں نے امتہ الحفیظ کو بھجوا دیا تھا۔بہت عمدہ تھا اور مجھے بہت پسند تھا۔ایک دفعہ میں نے تین کھیس پیش خدمت کئے۔آپ نے میرے سامنے اپنے کمرہ میں پچھوا دیئے۔اور خوشی کا اظہار فرمایا۔اللہ تعالیٰ آپ پر اور آپ کی نسل پر اپنے فضلوں اور رحمتوں کی بارش قیامت تک فرما تار ہے۔اور آپ کے درجات کو ہر آن بلند کرے۔۷۳ جود وسخا تاثرات مکرم عبدالمجید خان صاحب ریاست قلات بلوچستان ایک دفعہ میں نیچے کھڑا تھا۔چھت پر سے ایک روپیہ پھینکا کہ یہ بہشتی کو دے آؤ نیچے پکا فرش تھا۔وہ روپیہ اُچھل کر میری کوٹ کی جیب میں اس طرح گرا کہ مجھ کو بالکل علم نہ ہوا۔میں نے اور میری والدہ نے بہت تلاش کیا مگر نہ ملا۔آپ اوپر سے دیکھ رہی تھیں جھٹ دوسرا پھینکا کہ یہ دے آؤ۔میں نے وہ اپنی جیب میں ڈال لیا۔اور باہر جانے لگا۔جب میں نے ہاتھ ڈالا۔تو دیکھا کہ پہلا روپیہ بھی موجود ہے میں نے عرض کیا کہ حضور پہلا روپیہ شاید ابھر کر میری جیب میں آگرا ہے فرمایا۔چلو دونوں ہی دے دو۔غربا پروری اور رحم ہو تو ایسا ہو۔پھل مٹھائیاں اکثر میری والدہ کو دیتیں کہ یہ اپنے بچوں کے لئے لے جاؤ اور ہمیشہ ہمارا ہر طرح کا خیال رکھتیں۔حضرت ام المومنین کے فوت ہونے سے چند روز پیشتر میری بیوی نے خواب دیکھا صبح نماز کا وقت تھا۔۴ کے حضرت مولوی محمد جی صاحب حضرت اماں جان کے حلم وجود و کرم کا یہ حال تھا کہ سلسلہ کے دشمنوں کی مستورات کی امداد فر مایا کرتیں تھیں۔بعض لوگوں نے ان سے ہاتھ کھینچنے کی درخواست کی مگر آپ نے ایسا نہ کیا۔ان مستورات کے بچوں کو خدا تعالیٰ نے احمدیت میں داخل کیا۔۷۵