سیرت حضرت اماں جان — Page 212
212 حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال میں سب سے پہلے جون ۱۸۹۸ء میں قادیان آیا۔میں بچہ تھا۔اور قصور ضلع لاہور کے ڈسٹرکٹ بورڈسکول میں چوتھی جماعت میں پڑھتا تھا۔اس زمانہ میں حضرت اماں جان مہمان نوازی میں خاص طور پر حصہ لیتیں۔مہمان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ گول کمرہ میں کھانا کھاتے تھے۔جب کھانا کھا چکے۔تو ایک شخص آیا اور اس نے آواز دی۔کہ کسی مہمان کو کوئی خاص ضرورت ہو۔یا کھانے کے متعلق کوئی خاص عادت ہو۔تو بتا دے۔میں نے بے تکلفی سے کہہ دیا کہ مجھے کسی کی عادت ہے۔تھوڑی دیر میں دہی کی میٹھی لسی لائی گئی۔اور میں نے پی اور بعض دوسرے دوستوں نے بھی پی۔غالباً بعض دوسرے دوست حسب عادت چائے یا پان منگواتے تھے۔مہمانوں کے آرام کے خیال کی یہ ایک اچھی مثال ہے۔کہ کسی مہمان کو کسی خاص عادت کی وجہ سے تکلیف نہ ہو۔اور اس سے دریافت کر لیا جائے۔بچوں سے یکساں محبت اور احسان کا سلوک فرماتیں حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا تمام بچوں سے یکساں محبت اور احسان کا سلوک کرتیں خواہ ان سے یا ان کے والدین سے ذاتی طور پر واقف ہوں یا نہ ہوں۔میں ایک دہقانی لڑکا تھا۔اور حالات کے ماتحت مجھے اچھی طرح یقین ہے۔کہ حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہا میرے والدین سے روشناس نہ تھیں۔تاہم کئی دفعہ ایسا واقعہ ہوا۔کہ جب ہم دار مسیح کے پاس کہیں بیٹھے ہوں۔تو اندر سے کوئی خادم کھانے کی چیز لے آتا تھا۔یہ تعلق اور خوشی کے اظہار کے لئے ہوتا تھا۔چنانچہ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔میں اور ایک دوسرا طالب علم مسجد مبارک کی دوسری منزل پر بیٹھے ہوئے تھے۔ایک خادمہ پان لائی۔اور کہا کہ اماں جان نے بھیجے ہیں۔اور ہم نے کھائے۔یہ پہلا پان تھا۔جو میں نے کھایا۔یہ غالباً ۱۹۰۲ یا ۱۹۰۳ کا واقعہ ہے۔اس زمانہ میں لا ہور میں شاذ شاذ دوکانیں پانوں کی کھل گئی تھیں۔لیکن گاؤں کے لوگ بالکل پان نہیں کھاتے تھے۔اسی طرح مجھے ایک دفعہ رائتہ بھجوایا۔حالانکہ حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہا مجھے بالکل نہیں جانتی تھیں۔کہ میں کون ہوں اور کہاں کا رہنے والا ہوں۔غالبا مجھے سکول میں بچوں کے ساتھ یا مسجد میں دیکھا ہوگا۔اتنی چھوٹی عمر کے بچوں کی دلداری کا کون خیال رکھتا ہے۔بعد میں میں جب