سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 206 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 206

206 حضرت اماں جان واپس بھیج دیں۔مگر سیدہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک نہ مانی اور یہی جواب دیا کرتی تھیں کہ میں اپنی مائی کو واپس نہیں بھیجوں گی۔اب میں سیدہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے احسانات اور حسنِ سلوک کولکھ دیتی ہوں جو آپ نے ایک لمبا عرصہ میرے ساتھ روا ر کھے۔میں جب کبھی بھی رخصت لے کر اپنے وطن گجرات جایا کرتی تھی تو کچھ دن گزرنے کے بعد خط پر خط آنے شروع ہو جاتے کہ مائی فوراً آجا۔جب میں واپس آتی تو فرماتیں اتنے دن لگا دیئے۔“ اور میرے رخصت پر جانے کے بعد جو چیز دوسروں میں تقسیم فرماتیں اس کا میرا حصہ ضرور بالضرور نکال کر رکھ کر لیا کرتیں اور میرے آنے پر ایک ایک چیز گن گنا کر رکھ دیتیں کہ یہ تیرا حصہ ہے۔سیدہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا میرا بہت خیال رکھا کرتی تھیں۔بغیر کہے کپڑا پہننے کے لئے دیا کرتیں۔اور نہ صرف میرا ہی خیال رکھتیں بلکہ میرے بچوں کا بھی بہت خیال رکھتیں۔چنانچہ جب کبھی میری لڑکیاں ملنے کے لئے آیا کرتیں تو مجھ سے بڑھ کر اُن کو وہ کچھ دیا کرتیں جو ماں باپ لڑکیوں کو دیتے ہیں۔۵۰ مکرم مہاشہ محمد عمر صاحب ۱۹۲۹ء کے مئی کا ذکر ہے۔خاکسار نے مولوی فاضل کے امتحان کے لئے امرتسر جانا تھا۔جانے سے پہلے میں نے چاہا کہ بیت الدعا میں جا کر دعا کرلوں۔چنانچہ میں نے مائی کا کو صاحبہ کے ذریعہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اگر آپ کی اجازت ہو تو میں بیت الدعا میں جا کر دعا کرلوں۔اس پر مائی کا کو صاحبہ نے آکر کہا کہ حضرت اُم المومنین فرماتی ہیں کہ ۱۸اور ۹ بجے کے درمیان آجانا۔چنانچہ خاکسار دوسرے دن مقررہ وقت پر حاضر ہوا۔اور جا کر دروازه پر دستک دی تو ایک خادمہ دروازہ پر آئی۔تو اس نے پوچھا کون ہو۔میں نے جواب دیا کہ میں حضرت اُم المومنین کے ارشاد کے ماتحت بیت الدعا میں دعا کرنے کی غرض سے حاضر ہوا ہوں۔اس پر خادمہ کہنے لگیں کہ ابھی وہاں پر حضرت اُم المومنین نے بعض مہمان عورتوں کو دعوت پر بلایا ہے۔اس لئے آپ کل آئیں۔میں نے عرض کیا کہ آپ حضرت اُم المومنین سے عرض کر دیں کہ میں آج ہی امتحان کے لئے جا رہا ہوں۔اس پر وہ خادمہ چلی گئی اور پھر واپس نہ آئی۔آخر میں نے پھر دروازہ کھٹکھٹایا تو مائی کا کوصاحبہ باہر