سیرت حضرت اماں جان — Page 178
178 ہے۔اس لئے مجھے اپنے گھر کی لسی جو حضور کے اپنے دست مبارک سے بلوئی ہوئی ہو۔اس عاجزہ کو عنایت فرما دیں۔تو آپ نے اسی وقت اپنی خادمہ کو حکم دیا۔کہ جولسی منجھلے میاں (حضرت میاں بشیر احمد صاحب) کے لئے رکھی ہوئی ہے۔اس لسی میں سے زینب کو پلا دو۔پھر خادمہ حضور کی وہ کسی لائی۔میں اس کسی کو پی کر سیر ہوگئی۔اس وقت میرالڑ کا محمد اعظم اللہ تعالیٰ اس کی عمر میں برکت دے اور دین اور دنیا میں اس کو کامیاب کرے۔میری گود میں تھا۔حضرت اماں جان کے اخلاق کیسے اعلیٰ درجے کے تھے۔جواب تک اس عاجزہ کو وہ محبت والی لسی پلانی یاد ہے۔جس کو انشاء اللہ میں کبھی نہیں بھولوں گی۔۱۵ مکرمہ حمیدہ صابرہ صاحبہ بنت حضرت ڈاکٹر فیض علی صابر بیان کرتی ہیں کہ قادیان میں الیکشن کے ایام میں مکرمہ جنرل سیکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکز یہ مریم صدیقہ صاحبہ کے ڈلہوزی تشریف لے جانے کی وجہ سے مجھے پندرہ دن دفتر لجنہ اماء اللہ میں کام کرنا پڑا۔پندرہ دن متواتر دو پہر کا کھانا حضرت اماں جان کے ساتھ آپ کے دستر خوان پر کھاتی رہی۔آپ بہت زیادہ خیال رکھتیں۔اپنے ہاتھ سے چیز اُٹھا کر دیتیں اور پھر اصرار سے کھلاتیں۔اکثر پوچھتیں "کل فلاں چیز پکواؤں کھاؤ گی؟“ ایک دن فرمانے لگیں ”کل موٹھ کی کچھڑی کھاؤ گی ؟ میں نے کہا ”جی“۔دوسرے دن کھچڑی بھی پکی۔اماں جان کے باورچی خانہ کے ساتھ والی کوٹھڑی میں دسترخوان لگا ہوا تھا۔آپ حضرت اچھی اماں یعنی بیگم صاحبہ ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب مرحوم اور سیدہ بشری دختر حضرت میر محمد الحق صاحب مرحوم بیٹھی ہوئی تھیں۔میرا انتظار ہورہا تھا۔جب میں اُس چھوٹے سے راستے پر آئی جو حضرت اُمّم طاہر احمد کے مکان کی طرف سے حضرت اماں جان کے گھر کو جاتا تھا تو میں نے سنا آپ اونچی آواز سے حمیدہ حمیدہ “ کہہ کر مجھے بلا رہی تھیں۔( آہ! اس میٹھی آواز کی حلاوت آج تک میرے کانوں میں ہے ) میں نے کہا ” آئی اماں جان اور دوڑ کر گئی۔آپ دستر خوان پر بیٹھی ہوئی میرا نتظار فرما رہی تھیں۔اللہ ! اللہ ! کیا کیا شفقتیں وہ اپنی روحانی اولاد پر فرماتیں۔آپ کی خوبیاں، آپ کی کرم فرمائیاں دنیا ر ہتی دنیا تک یادر کھے گی۔۱۶