سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 177 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 177

177 یہ چائے کی پیالی پی لیں اور پھر یہاں بیٹھیں۔جب حضرت اماں جان اٹھیں۔تو آپ نے فرمایا زینب کیوں آئی ہو؟ میں نے عرض کیا۔کہ ایک حضور کی زیارت کرنے اور دوسرے حضور کا چائے کا تبرک پینے آئی ہوں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ میں تو نمکین چائے پیتی ہوں اور آپ چینی ڈال کر پیتے ہوں گے۔میں نے عرض کیا کہ حضور آپ مجھے نمکین ہی عنایت فرما دیں۔اس پر آپ نے ایک پیالی چائے کی منگوائی اور ایک گھونٹ اس میں سے بھرا اور باقی کیلئے مجھے فرمایا زینب ! یہ لے لو۔میں نے وہ چائے کی پیالی حضرت اماں جان کے مبارک ہاتھوں والی پی لی۔حضور کی زیارت اور آپ کا چائے کا تبرک پینے سے مجھے خوب تسکین ہوئی اور میری بیماری میں بہت افاقہ ہو گیا۔۱۳ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہجرت کے بعد جب حضرت اماں جان لا ہور تشریف لائے ہوئے تھے۔میں اپنے بڑے لڑکے محمد اعظم کے پاس لاہور میں رہتی تھی۔میں اپنے گھر سے حضرت اماں جان کی ملاقات کے لئے گئی۔جب میں حضور کے پاس حاضر ہوئی تو حضرت اماں جان نے فرمایا کہ زینب ! مجھے آم کا اچار ڈال دو۔حضور نے سب چیزیں اچار کی رکھی ہوئی تھیں میں نے اسی وقت اچار ڈال دیا۔میں جب اٹھنے لگی تو حضرت اماں جان مجھے ایک روپیہ کا نوٹ انعام دیا۔میں حضرت اماں جان سے عرض کیا کہ حضور مجھے نوٹ نہ دیویں مجھے اپنی یاد گیری کے لئے کوئی پائیدار چیز عنایت فرمائیں تو پھر حضرت اماں جان نے اسی وقت اپنی جیب سے نکال کر ایک روپیہ دیا اور فرمایا۔زینب یہ لو، یہ پائیدار ہے میں نے وہ نوٹ پہلا واپس کرنا چاہا تو حضور نے فرمایا کہ نہیں نوٹ بھی اپنے پاس رکھو اور یہ روپیہ بھی۔وہ روپیہ میں نے حضرت اماں جان کے برکت والے ہاتھوں کا ایک ریشمی کپڑے میں باندھ کر او پر حضرت اماں جان کا اسم مبارک لکھ کر محفوظ رکھا لیکن فیروز والے آکر ایک مرتد نے چوری کر کے دوسری چیزوں کے ساتھ ہمارے کمرے کے قتل کو چابی لگا کر نکال لیا۔۱۴ پھر ایک دفعہ کا ذکر ہے۔کہ یہ عاجزہ پھر فیروز پور شہر سے قادیان دارالامان گئی۔اور اپنے مکان فضل منزل پر جا اُتری۔وہاں سے پھر حضرت اماں جان کے دولت خانے پر حاضر ہوئی۔جب حضور کی خدمت میں پیش ہوئی تو اس وقت مجھے سخت پیاس لگی ہوئی تھی۔میں نے اس وقت حضرت اماں جان کی خدمت میں بڑی بے تکلفی سے عرض کیا۔کہ حضور مجھے سخت پیاس لگی ہوئی