سیرت حضرت اماں جان — Page 176
176 ایک سیر سے زیادہ نہ نکلے۔آخر وہی لے کر دیہاتی طرز کا ہی زردہ تیار کر لیا۔مگر اب دیکھتی ہیں ۱۲ عورتیں جو حضرت اماں جان کے ساتھ۔کچھ گھر کے افراد۔چاول صرف ایک سیر۔حیران ہیں کہ کیا کریں۔آخر والدہ صاحبہ کی اللہ پاک نے راہنمائی کی۔فوراً چولہے پر سے دیگچی اٹھائی اور حضرت اماں جان کے سامنے لے جا کر رکھ دی پلیٹیں بھی ساتھ رکھ دیں۔حضرت اماں جان بڑی خوش ہوئیں اور اپنے ہاتھ مبارک سے ہر ایک کو وہ زردہ تقسیم کیا۔میری والدہ صاحبہ مرتے دم تک یہ واقعہ بیان کرتیں اور حیران ہوتیں کہ وہ زردہ ۱۲ عورتوں نے بھی کھایا اور ہم گھر والوں نے بھی کھایا اور بھی دیچی میں کچھ بچا ہوا تھا۔اور پھر لطف یہ کہ سب نے سیر ہو کر کھایا۔اس کے بعد حضرت اماں جان نے فرمایا کہ بڑی بی تم اپنی زمینداری کی پیداوار کہاں رکھتی ہو۔مجھے دکھاؤ۔جیسا کہ زمینداروں کا قاعدہ ہے اناج مٹی کی کوٹھیاں سی بنا کر رکھتے ہیں۔والدہ صاحبہ نے ایک کوٹھی دکھائی کہ حضور اس میں گندم ہے۔حضرت اماں جان نے دیکھا۔والدہ صاحبہ نے عرض کی کہ حضور اس میں برکت والا ہاتھ بھی پھیر دیں۔چنانچہ اس گزارش کے ما تحت حضرت اُم المومنین نے ہمارے سارے اناج کے ذخیرہ کو دیکھا۔اور ہر اناج پر برکت کا ہاتھ پھیرا۔کچھ عرصہ ٹھہر کر حضرت مدوحہ نے دعا کی اور واپس تشریف لے گئیں۔۱۲۔شفقت ہی شفقت تاثرات حضرت زینب بی بی صاحبہ جب حضرت اماں جان ربوہ میں ابھی تھوڑی تھوڑی بیمار تھیں تو میں ربوہ میں ہی رہتی تھی۔میں آپ کی بیمار پرسی کو آئی۔میرا اپنا دل بھی اپنی بیماری کی وجہ سے سخت گھبرایا ہوا تھا اور باوجود اس حالت کے میرا دل حضرت اماں جان کی زیارت کو بہت چاہتا تھا۔جب میں آپ کے مکان پر گئی اُس وقت عصر کا وقت تھا۔میں حضرت اماں جان کے پاس آکر بیٹھ گئی۔حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ وہاں موجود تھیں انہوں نے مجھ سے آنے کی وجہ دریافت کی۔میں نے عرض کیا کہ میں ایک تو حضرت اماں جان کی زیارت کے لئے آئی ہوں اور دوسرے حضرت اماں جان کا تبرک پینے آئی ہوں۔بیگم صاحبہ اس وقت چائے پی رہی تھیں انہوں نے اپنے ہاتھ سے چائے کی پیالی عنایت فرمائی اور کہا کہ حضرت اماں جان ابھی سو رہی ہیں پہلے آپ