سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 170 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 170

170 ہمدردی اور عنایات کریمانہ محترم ملک غلام نبی صاحب تحریر کرتے ہیں: ایک دفعہ میری اہلیہ عائشہ بی بی قادیان حاضر ہوئی۔تو اس کے بدن پر جو قمیص تھی وہ باریک تھی۔اور سردی کا موسم تھا۔اس کو دیکھتے ہی حضرت اماں جان نے فوراً ایک گرم قمیص نکالی اور اسی وقت اس کو پہنا دی۔میرے لڑکے عبد القادر مرحوم کی شادی ہونے کے بعد جب میری بیوی اپنی بہو کو ساتھ لے کر حضرت اماں جان کے حضور حاضر ہوئی۔تو حضرت اماں جان نے مبلغ دس روپیہ اور ایک تھال کھانڈ لا کر میری بہو کو دیا اور خوش ہو کر کہا کہ یہ میرے منشی صاحب کی نواسی ہے۔غرضیکہ ہزاروں واقعات ایسے ہیں جو ان کے اخلاق فاضلہ اور رحیمانہ برتاؤ کا ثبوت ہیں لے مکرمہ امتہ المجید ایم۔اے تحریر کرتی ہیں: والدہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ جب خاکسار را قمة الحروف پیدا ہوئی۔تو حضرت اماں جان از راہِ شفقت ہمارے ہاں تشریف لا ئیں۔مجھے گود میں اُٹھالیا۔اور دیکھ کر فرمایا ' لڑکی قسمت والی ہے اپنے خادموں کے ساتھ مادرانہ سلوک اور نیک خواہشات ہی کی وجہ سے آپ کا گھر مرجع خلائق رہتا تھا۔کبھی چلے جائیں آپ کو زائرات سے گھرے ہوئے پایا۔کوئی ملنے کے لئے آئی ہوئی ہیں۔کوئی اپنے عزیزوں کی مشکلات دور ہونے کے لئے اور کوئی بیماروں کی تندرستی کے لئے دعا کے لئے کہنے آئی ہے۔الغرض آپ کے پہلو میں ایسا دردمند دل تھا۔کہ ہر عورت جو تکلیف میں ہوتی۔وہ آپ کی طرف رجوع کرتی۔اور آپ بھی اس کی ڈھارس بندھا تیں۔لوگ کہتے ہیں حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا وفات پاگئیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ آپ زندہ جاوید ہوگئیں۔آپ ان چند ہستیوں میں سے ہیں۔جن کی زندگیوں کو موت مٹانے کی بجائے اور بھی زیادہ اُجاگر کر دیتی ہے۔حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جسمانی اور طبعی طور پر وفات پاگئیں۔حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خدائی قانون کے تحت فوت ہو گئیں۔لیکن کیا موت نے ان ہستیوں کی بزرگی کو کچھ کم کر دیا ؟ ہے