سیرت حضرت اماں جان — Page 156
156 صداقت احمدیت کی مجسم دلیل۔آپ کا ایک عظیم احسان مکرم و محترم خواجہ غلام نبی صاحب سابق ایڈیٹر الفضل تحریر کرتے ہیں: کونسا احمدی ہے جس پر حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کے احسانات نہیں اور کس احمدی کی جبین نیاز آپ کی نوازشات کے بار سے خم نہیں۔لیکن مجھ نا چیز پر ذاتی طور سے دوسرے بہت سے احسانات کے علاوہ ایک خاص احسان آپ نے ایسا فرمایا جس کا عمر بھر شکر ادا ہونا ممکن نہیں۔اور جو ایسا عظیم الشان اور بابرکت احسان ہے کہ اس زندگی میں بھی میں نے اس سے بے حد فائدہ اٹھایا اور انشاء اللہ دوسری زندگی میں بھی میرے لئے مغفرت کا ذریعہ ہوگا۔میں بالکل ابتدائی عمر میں قریباً ۱۹۱۱ء میں قادیان آ گیا تھا۔اُس وقت میرے دور ونزدیک کے رشتہ داروں میں سے کوئی احمدی نہ تھا۔میرے والد صاحب میرے بچپن میں ہی وفات پاگئے تھے۔تایا صاحب کے نرینہ اولاد نہ تھی ، انہوں نے میری پرورش کی اور انتہائی محبت و شفقت سے غور و پرداخت فرماتے تھے مگر بدقسمتی سے وہ احمدی نہ تھے۔پرانے وقتوں کے پڑھے لکھے تھے کڑستی اور پیروں وگدی نشینوں کے معتقد تھے۔قریب قریب کے علاقہ میں اچھی شہرت رکھتے تھے۔احمدیت کی مخالفت میں کافی حصہ لیتے تھے۔کسی اہلِ علم احمدی سے گفتگو کرنے کی تو جرات نہ کرتے تھے لیکن عام احمدیوں سے بحث مباحثہ جاری رکھتے تھے۔اور عموماً مخالفانہ باتوں میں سرگرم حصہ لیتے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تریاق القلوب میں جن لوگوں کو نشان دیکھنے کے لئے قادیان آنے کی دعوت دی ہے اُن میں اُن کا بھی نام ہے۔باوجود گھر کے اس ماحول کے میری نشست و برخاست ایک احمدی مرز امحمد افضل صاحب مرحوم ابن حضرت مولانا جلال الدین صاحب بلا نوی جن کا نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے تین سو تیرہ اصحاب میں تیسرے نمبر پرلکھا ہے۔مرتب ) کے پاس تھی۔وہ میری عمر اور علم کے مطابق مجھ سے احمدیت کے متعلق گفتگو کرتے رہتے تھے۔جب مڈل تک تعلیم پانے کے بعد مزید تعلیم پانے کی کوئی صورت نظر نہ آئی تو انہوں نے مجھے قادیان جانے کی تلقین کی اور میں آمادہ