سیرت حضرت اماں جان — Page 154
154 ۱۹۲۱ء سے ان ہردو بزرگوں کی وفات تک قائم رہے حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ کی سیادت میں اڑھائی سال بطور مہتم دار الشیوخ کام کرنے کا موقعہ ملا۔حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل رضی اللہ عنہ کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد قادیان میں مقیم ہونے سے لے کر روز وفات تک ( جو پارٹیشن سے ایک ماہ قبل جولائی ۱۹۴۷ء میں ہوئی ہے مجھے قریباً ہر روز آپ کے نیاز حاصل کرنے کا موقعہ ملتا اور میں آپ جیسے منقطع الی اللہ۔عارف باللہ ولی اللہ محب اللہ عاشق الله متخلق با خلاق اللہ موصوف به جمیع صفات حسنہ بزرگ کے روحانی اور علمی فیوض سے متمتع و مستفید ہوتا رہا۔اور آپ کو غسل دینے کی سعادت آپ کی وصیت کے مطابق دوسرے دو بزرگوں حضرت بھائی عبد الرحیم رضی اللہ عنہ ومحترم شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی کے ساتھ نصیب ہوئی۔آپ بٹالہ پینشن لینے کے لئے جاتے تو خاکسار کو ساتھ لے جاتے۔ایک بار اپنی ایک صاحبزادی صاحبہ اور صاحبزادہ کے گلے کے اپریشن کروانے کے سلسلہ میں لاہور آئے۔اور کئی دن ٹھہرے تو بھی خاکسار آپ کے ساتھ تھا۔سفر میں حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا اور آپ کے بڑے حرم محترم بھی ساتھ تھے۔حضرت اماں جان پہلے مستری محمد موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاں اقامت گزیں ہوئیں۔اور مجھے آپ کی خدمت میں حضرت میر صاحب نے دہلی مسلم ہوٹل انار کلی سے بھیجا۔میں نے دونوں بچوں کے کامیاب اپریشن کی اطلاع عرض کی۔اور ان کے غرارہ کرنے کی غرض سے دو برتن حضرت اماں جان نے مجھے دیئے۔واپسی کے وقت قادیان تک آپ کی معیت میں سفر کا موقعہ ملا۔ایک دن خاکسار صاحبزادہ میرزا ناصر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کی کوٹھی پر جو حضرت اماں جان نے بنوائی تھی اور جہاں پر سیدنا حضرت میرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ مقیم تھے آپ کے دونوں صاحبزادوں ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب و پروفیسر مرزا مجید احمد صاحب سلمہما اللہ تعالیٰ کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھانے گیا۔تو حضرت اماں جان بھی شہر سے تشریف لے گئیں۔مجھے برآمدہ میں بیٹھا دیکھا میں نے سلام عرض کیا۔تو اندر جا کر فرمایا۔”میاں تمہارے ماسٹر صاحب باہر آئے بیٹھے ہیں ان سے جا کر پڑھو۔“