سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 128 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 128

128 حضرت اقدس علیہ السلام کے سامنے کھانا چنا ہوا تھا اور حضور معہ اہل بیت تناول فرما رہے تھے۔سیدۃ النساء نے طشت آگے سے اٹھایا اور اس حقیر خادم کو عطا کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود کی موجودگی میں فرمایا کہ بھائی جی آپ تبرک مانگتے ہیں؟ آپ تو خود ہی تبرک ہو گئے ہیں۔“ اللہ! اللہ ! حضرت ممدوحہ کی نگاہ لطف نے اس حقیر غلام کو غلام ہوتے ہوئے بھی تبرک بنا دیا۔محترم قارئین کرام! میں اس موقعہ پر آپ سے التجا کرتا ہوں کہ از راہ کرم اس نوٹ کو پڑھتے ہوئے اور بعد میں بھی دعا فرمائیں۔کہ اللہ تعالیٰ ان الفاظ کو حقیقت ہی بنادے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد جب حضور کا جسدِ اطہر بٹالہ سے قادیان لایا جا رہا تھا۔تو اس خادم کی ڈیوٹی حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے رتھ کے ساتھ تھی۔حضرت ممدوحہ اس وقت خاموشی کے ساتھ ذکر وافکار اور دعاؤں میں مشغول تھیں اور صبر و رضا کا کامل نمونہ پیش فرمارہی تھیں۔جب رتھ نہر کے پل سے نکل کر آگے بڑھی۔تو حضرت ممدوحہ نے دلسوز اور رقت آمیز آواز سے فرمایا ” بھائی جی پچیس سال گزرے میری ڈولی اس سڑک پر سے گزری تھی۔آج میں بیوگی کی حالت میں اس سڑک پر سے گزر رہی ہوں۔یہ الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونجتے اور درد پیدا کر رہے ہیں۔میں بچہ تھا جب والدین اور عزیزوں اور رشتہ داروں کو چھوڑ کر قادیان پہنچا۔لیکن سیدۃ النساء کی شفقت اور مہربانی کی وجہ سے میں نے اور دوسرے احمدی بھائیوں نے کبھی بھی اپنے آپ کو اکیلا اور یتیم نہیں سمجھا تھا۔اور اس شفیق ہستی کے طفیل ہم نے سب رشتہ داروں کو بھلا دیا تھا۔لیکن اب جبکہ حضرت مدوحہ کی وفات کا حسرت ناک واقعہ ہوا ہے ہمارے دل غم سے نڈھال ہو گئے ہیں۔اور ہم اپنے آپ کو پھر یتیم محسوس کرتے ہیں۔اے خدا تو اس مبارک وجود کو جس کو تو نے اپنی خدیجہ اور اپنی نعمت قرار دیا۔جس کو تو نے مقدس خاندان کا بانی بنایا۔جس کے ذریعہ سے تو نے پنجتن پاک کا ظہور فرمایا۔جس کو تو نے مسیح پاک اور بروز محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت کا فخر بخشا۔اعلیٰ علیین میں مقام بلند وارفع عطا فرما۔اور اس کے درجات ہر آن بلند فرماتا چلا جا اور اس کی اولاد اور لواحقین پر بھی بے شمار رحمتیں اور فضل نازل فرما۔آمین ثم آمین ۱۵