سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 127 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 127

127 کے اخلاق تھے۔اور آپ کی عادات و اطوار اور سیرت و کردار وہی تھے جو مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کی زوجہ محترمہ کے ہونے چاہئیں تھے۔جب بچپن میں خدا تعالیٰ کے خاص ہاتھ نے مجھے بت پرست قوم سے نجات دے کر نور ایمان و اسلام سے منور کیا۔تو میری حقیقی والدہ جس نے مجھے جنا تھا۔اپنی مامتا سے مجبور ہوکر ایک سے زیادہ بار مجھے واپس لے جانے کے لئے قادیان آئی لیکن مجھے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جان کی غلامی اتنی محبوب اور دل پسند تھی کہ میں نے اس کو ہزار آزادیوں اور آراموں پر ترجیح دی۔اور جب ایک دفعہ میرے والد نے بڑی آہ وزاری والحاح سے مجھے واپسی کے لئے مجبور کرنا چاہا تو میں نے اس واقعہ کے مطابق جو حضرت زید مولی رسول ﷺ سے متعلق ان کے والدین کو پیش آیا تھا اپنے مقدس آقا کو جس کی غلامی میں میں تھا چھوڑنے سے انکار کر دیا۔اپنی والدہ کو یہ کہا کہ وہ ذرا اس مقدس اور پُر شفقت ہستی کو تو ملے جس کی غلامی پر مومنوں کی تمام جماعت فخر کرتی ہے۔چنانچہ میری والدہ میری درخواست و اصرار پر سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا سے ملاقی ہو ئیں اور تھوڑے سے وقت کی ملاقات سے ہی حضرت ممدوحہ کے اخلاق کریمانہ کی والہ و شیدا ہو کر واپس لوٹیں اور اس بات کا اظہار کرتی تھیں کہ اگر میرا بچہ مجھے چھوڑ کر ایک ایسی مشفقہ اور کریمہ ومحسنہ کی غلامی میں آگیا ہے تو یہ میرے لئے اور میرے خاندان کے لئے کوئی باعث تشویش امر نہیں۔یہ تھے سیدۃ النساء کے اخلاق فاضلہ۔اس وقت صدمہ تازہ ہے اور زخم ہرے ہیں۔اس لئے جذبات میں کھوئے جانے کے باعث اپنے خیالات کو مجتمع نہیں کر سکتا اور نہ ہی حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سیرت کے متعلق سر دست تحریر کر سکتا ہوں۔ہاں ایک دو مختصر واقعات احباب کے سامنے پیش کر دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کے مقدس ایام تھے۔حضور لاہور میں خواجہ کمال الدین صاحب کے گھر میں فروکش تھے۔ایک دن بعض دوستوں نے مجھے سے حضرت اقدس علیہ السلام کا تبرک حاصل کرنے کی فرمائش کی۔میں اپنے آقا کی عقبہ عالیہ پر حاضر ہوا۔دستک دی۔اندر سے سیدۃ النساء نے فرمایا کون ہے عرض کی حضور خادم و غلام عبد الرحمن قادیانی۔آنے کی غرض دریافت فرمائی۔جس پر اس عاجز نے عرض کی کہ مسیح پاک کے تبرک کے حصول کے لئے حاضر ہوا ہوں۔