سیرت حضرت اماں جان — Page 106
106 کر سخت گھبرائی اور نہایت کرب کی حالت میں شدت غم سے میرے منہ سے چیخ نکل گئی اور ساتھ ہی میں نے کہا۔اماں جان! آپ دعا کریں۔آپ نبی کی بیوی ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کی دعا ضرور سُنے گا۔پیاری اماں جان جو اُس وقت منہ پر ہاتھ رکھے لیٹی ہوئی تھیں اُٹھ کر بیٹھ گئیں اور سخت اضطراب کی حالت میں اپنے خدا کو مخاطب کر کے فرمانے لگیں کہ ” اے خدا ابھی چند دن ہوئے میرا بھائی فوت ہوگیا ، بہو فوت ہوئی اب مجھ میں برداشت کی طاقت نہیں تو احمد کو صحت دے اور وہ اپنے بچوں کے سر پر سلامت رہے۔اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان کی دعا کو سنا اور ان کو خارق عادت رنگ میں صحت عطا فرمائی اور اپنے قول کے مطابق کہ میرے بعض بندے مجھے اس قدر پیارے ہوتے ہیں کہ میں اُن کے منہ سے نکلی ہوئی بات رد نہیں کر سکتا۔حضرت اماں جان کی اُس وقت کی درد بھری دعا کو قبول کیا۔جبکہ تمام دنیوی سہارے ٹوٹ چکے تھے اور کوئی بھی سہارا موجود نہیں تھا سوائے خدا کے۔ان پر ہی کیا منحصر ہے آپ کی رافت و شفقت ہر کہہ دمہ کے لئے عام تھی۔آپ بے کسوں کی مددگار ، بیواؤں کی خبر گیری کرنے والی ، یتامی کی طلباو ماوی۔حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے والی اور ہر ایک کے دکھ سکھ کی شریک تھیں۔آہ! وہ برگزیدہ ماں جس کے وجود باجود کے ساتھ ہزاروں ہزار رحمتیں اور برکتیں وابستہ تھیں آج ہم میں موجود نہیں۔ہم آپ کی دردمندانہ دعاؤں سے محروم ہو گئے۔اے اللہ ! تو ان پر اپنی بے شمار رحمتوں کا سایہ رکھ اور ہمارے لئے اُن کی دعاؤں کے اثر کو دائمی بنادے۔اے اللہ ! تو ہمیں توفیق دے کہ ہم آپ کے نقش قدم پر چل کر تیری رضا کے حاصل کرنے والے ہوں اور صحیح معنوں میں آپ کی نسل کہلانے کے مستحق ٹھہر ہیں۔اے مادر مہربان ! تجھ پر ہزاروں سلام اور لاکھوں درود ہوں۔