سیرت حضرت اماں جان — Page 105
105 خاموش ہو جاتیں۔جب کہ دوسرے لوگ ادنی ادنی نقصان پر بھی ملازموں کا بُرا حال کر دیتے ہیں۔لیکن حضرت اماں جان ہمیشہ عفو اور درگزر سے کام لیتیں اور اپنے تمام ملازمین کے کھانے، کپڑے اور تمام چھوٹی چھوٹی ضروریات کا خاص خیال رکھتیں۔صرف اُن کا ہی نہیں بلکہ اُن کے لواحقین کا بھی خیال رکھتیں۔اگر کسی خاندان کا کوئی ایک فرد آپ کی خدمت کرتا تو اس کا تمام کنبہ آپ کے سائے میں پلنے لگتا اور آپ اُن سب کی ہر قسم کی ضرورتیں پوری کرتیں۔عام طور پر لوگ بچوں والی عورتوں کو ملازم رکھتے ہوئے گھبراتے ہیں اور جور رکھتے بھی ہیں وہ اِس خیال سے رکھتے ہیں کہ اُن کے بچے بھی ہمارا کام کریں گے۔اور پھر اُن بچوں سے اس قدر کام لیتے ہیں کہ اُن کو تعلیم حاصل کرنے اور ترقی کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔لیکن حضرت اماں جان چار چار پانچ پانچ بچوں والی عورتوں کو اپنے پاس بخوشی رکھتیں اور اُن کے بچوں کی جملہ ضروریات زندگی مہیا فرماتیں۔یہاں تک کہ اُن کی تعلیم و تربیت کا بھی اہتمام فرما تھیں۔اور کبھی اُن سے اس طریق پر کام نہ لیتیں اور نہ ہی خاندان کے کسی دوسرے فرد کو لینے دیتیں جس سے اُن کی تعلیم میں کوئی حرج واقع ہو۔اسی لئے آپ کے گھر میں جتنے بچے بھی پہلے اُن میں سے کوئی بھی جاہل نہیں رہا بلکہ بعض نے اعلی تعلیم حاصل کی۔چند دن ہوئے ایک عورت پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی اور کہتی جاتی تھی۔”ہائے اماں جان تو چلی گئیں ہمارا اس دنیا میں اب کون ہے۔میرے بچوں کی تو اماں جان نے زندگی بنادی۔میں جاہل ، بچوں کا باپ جاہل، دادا جاہل تمام خاندان جاہل کسی کو الف سے بے نہیں آتا آج اماں جان کے طفیل میرا بچہ لائق ہو گیا اور خدا کے فضل سے میٹرک پاس کر کے ملازم ہو گیا۔جس کا مجھے وہم بھی نہیں آسکتا تھا۔میرے دوسرے بچے بھی پڑھ رہے ہیں۔میں احمدیت سے بے بہر تھی۔حضرت اماں جان کے حسن سلوک سے مجھے احمدیت کی دولت نصیب ہوئی۔“ لمصلہ ۱۹۴۷ء میں اصلح الموعود کا جو جلسہ دہلی میں ہوا۔اُس میں مخالفوں کی شورش اور فساد کے نتیجہ میں جن لوگوں کو چوٹیں آئیں اُن میں سے ایک یہ میاں عبدالرحیم احمد صاحب ) بھی تھے۔ان کے سر پر سخت چوٹ آئی اور زیست کی کوئی امید نہ رہی۔تمام ماہر ڈاکٹروں نے کہہ دیا کہ یہ اب نہیں بچیں گے۔سیدنا ابا جان باہر سے تشریف لائے اور مجھے گلے لگا کر فرمانے لگے۔ڈاکٹروں کے نزد یک احمد کے بچنے کی بظاہر کوئی امید نہیں رہی لیکن اللہ تعالیٰ قادر ہے دعا کرو۔میں یہ سن