سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 100 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 100

100 حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کا حسن سلوک رقم فرمودہ حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ مدظلہ العالی ) حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا نے ایک سید زادی کو یتیمی کی حالت میں پرورش کیا مگر کچھ عرصہ کے بعد میں نے آپ سے لے کر اپنے پاس رکھا تھا۔اور ان کی شادی سید انعام اللہ شاہ صاحب مرحوم ( ایڈیٹر دور جدید) سے کر دی تھی۔ان کا خط جو حضرت اماں جان کی وفات پر آیا ہے اس کے چند سطور مندرجہ ذیل ہیں۔جو لکھا بالکل ٹھیک ہے۔میں نے خود دیکھا کہ یہی سلوک آپ کا تھا بلکہ اس سے بڑھ کر لاڈ پیار تھے ان کے ساتھ۔جہاں کہتی تھیں سیر کو لے جاتی تھیں و لکھتی ہیں کہ میں روتی جاتی ہوں اور لکھتی جاتی ہوں میرا اپنادل بھرا پڑا ہے۔میری تو سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ کو کیا لکھوں؟۔دل چاہتا ہے کہ اڑ کر پر ہوں تو آپ کے پاس پہنچ جاؤں اور آپ کے گلے سے لگ جاؤں۔آپ کا کیا حال ہے۔اماں جان نواب صاحب مرحوم کے بعد تو آپ کا بہت زیادہ خیال رکھتی تھیں۔اللہ رکھے بچے اپنے گھر بار کے ہوئے آپ تو ان کے پاس چلی جاتی تھیں تو آپ کو ڈھارس ہو جایا کرتی تھی۔اللہ کی مدد آپ کے شامل ہو۔میری خود بچپن سے لے کر اب تک وہ ہمدردر ہیں۔ان جیسا وجود اب ہمیں کہاں ملے گا۔ہم ان کی دعاؤں سے محروم ہو گئے۔بچپن کا زمانہ یاد آتا ہے۔اپنے پیارے ہاتھوں سے میرے کپڑے دھونے میرے سر سے جوئیں نکالنی میرا سر گوندھنا پھر پوچھ کر مجھے کھانا پکانا کہ کس چیز کو دل چاہتا ہے؟ جو کہنا وہی پکانا۔پھر قادیان میں اب بھی میرے کمرے میں آکر لیٹ جانا کتاب سنناوہ سارا زمانہ یاد آرہا ہے۔میری پیاری اماں جان ایسی شفیق قیموں کی سرپرست محبت و شفقت کرنے والی اتنی نیک اتنی خوبیوں والی اتنی اچھائیوں کی مالک ان کی دعائیں۔ان کی برکتیں اب ہمیں کہاں ملیں گی۔