سیرت حضرت اماں جان — Page 99
99 ایک بار اور میں نے اس چشمہ محبت کو پورے زور سے پھوٹتے دیکھا۔جیسے بارش برستے برستے یکدم جھڑا کے سے گرنے لگتی ہے۔اس وقت وہی بابرکت ہستی تھی۔وہی شفقت ورحمت کا مجسمہ تھا جو بظاہر اس دنیا میں خدا تعالے رفیق اعلی ورحیم وکریم ذات کے بعد میرار فیق ثابت ہوا جس کے پیار نے میرے زخم دل پر مرہم رکھا۔جس نے مجھے بھلا دیا کہ میں اب ایک بیوہ ہوں۔بلکہ مجھے معلوم ہوتا تھا کہ میں کہیں جا کر پھر آغوش مادر میں واپس آگئی ہوں۔اب دنیا میں کوئی ایسا نہیں جو میرا منہ دیکھے کہ اداس تو نہیں ہے۔اب کوئی ایسا نہیں جو میرے احساس کو سمجھے۔میرے دکھ کو اپنے دل پر بیتا ہوا دکھ محسوس کرے۔خدا سب عزیزوں کو سلامت رکھے میرے بھائیوں کی عمر میں اپنے فضل سے خاص برکت دے۔مگر یہ خصوصیت جو خدا نے ماں کے وجود میں بخشی ہے۔اس کا بدل تو کوئی خود اس نے ہی پیدا نہیں کیا۔اور میری ماں تو ایک بے بدل ماں تھیں سب مومنوں کی ماں ہزاروں رحمتیں لمحہ بہ لحہ بڑھتی ہوئی رحمتیں ہمیشہ ہمیشہ آپ پر نازل ہوتی رہیں۔وہ تو اب خاموش ہیں مگر ہم جب تک خدا ان سے ملائے گا۔ان کی جدائی کی کھٹک برابر محسوس کرتے رہیں گے۔عمر بھر کاہش جاں بن کے یہ نڑ پائے گی وہ نہ آئیں گی مگریاد چلی آئے گی