سیرت حضرت اماں جان — Page 94
دوسروں کی تکالیف کا احساس 94 اس کے علاوہ آپ کی محبت آپ کا ہر تکلیف ہر احساس کا خیال رکھنا چھوٹی چھوٹی بات پر نظر رکھنا کہ ان کو کوئی تکلیف تو نہیں چہرہ دیکھ کر خفی افسردگی کو بھی پہچان لینا اور مضطرب ہوجانا میں تو کبھی بھی نہیں بھولوں گی نہ ہی اس نعمت کی کمی اس دنیا میں پوری ہو سکتی ہے۔اس ضمن میں کچھ چھوٹے چھوٹے واقعات بھی تحریر ہیں جو کہنے کو چھوٹے مگر اپنے اثر کے لحاظ سے بڑے ہیں۔ایک بار لاہور میں میں نے ضروری اشیاء کی خرید سے واپسی پر ویسے ہی ذکر کر دیا کہ ایک قمیض کا ٹکڑا خاص میری پسند کا رنگ تھا۔مگر اس وقت بالکل گنجائش نہ تھی چھوڑ آئی صبر کر کے خاموش ہو گئی۔پھر پوچھا کیسا تھا کس دکان پر تھا۔مگر بظاہر گویا بالکل سرسری سا سوال۔دو پہر بھر چپ سی رہیں تیسرے پہر کارمنگوائی اور تھوڑی دیر بعد تشریف لائیں اور وہی کپڑا ایک قمیص کا میرے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ لو بنواؤ اور پہنو۔ساری دو پہر میراجی بے چین رہا میرے دل میں جیسے کوئی چٹکیاں لے رہا تھا کہ میری بچی اس وقت روپیہ کم ہونے کی وجہ سے اپنا دل مار کر آگئی ؟ میری بے بی ( آصفہ بیگم ) جب مجھ سے (میرے میاں مرحوم کے بعد خصوصاً لاہور میں تازہ پارٹیشن کے زمانہ میں ) کچھ طلب کرتی یا خواہش کرتی تو اکثر اس کو فرما تیں بے بی تو میری بچی کو نہ ستایا کر جو تیرا دل چاہے مجھے کہو مجھ سے مانگ میں دوں گی۔اس کو کچھ نہ کہہ۔ان ایام میں حالات کچھ ایسے ویسے ہی تھے۔میں نے کبھی ظاہر نہیں کیا تھا مگر خاموشی سے میرے پاس کچھ رو پیر کھ جانا کہ لوتم کوضروریات کی تکلیف نہ ہو تمہیں آجکل کہیں سے خرچ نہیں آرہا۔حضرت سید نا بڑے بھائی صاحب حضرت خلیفہ اسیح علیہ السلام بچپن سے حضرت اماں جان سے بے حد مانوس تھے اور جوان بچوں والے ہو کر بھی چھوٹی چھوٹی بات جو شکایت ہو یا تکلیف ہو حضرت اماں جان کے پاس ہی ظاہر کرنا اور آپ کی محبت ہمدردی اور مشورہ سے تسکین پانا آپ کا ہمیشہ طریق رہا۔ذراسی بات ہے مگر ماں کی محبت ظاہر کرتی ہے کہ ایک میٹھے تاروں کے گولے سے ہوتے ہیں جن کو مائی بڑھی کا جھانا کہ کر ہمارے پنجاب میں فروخت کرتے اور بچے شوق سے کھاتے ہیں کہیں بچپن میں حضرت خلیفہ اسیح ثانی کو بھی پسند ہوگا۔میں نے دیکھا کہ بچوں کے پاس دیکھ کر حضرت اماں جان نے فوراً منگوایا کہ میاں کو پسند ہے۔ان کو دے کر آؤ۔اسی طرح