سیرت حضرت اماں جان — Page 52
52 62 کم بزاید بزاید مادرے جوں ایس صفا در یتیم میں آپ کی ہمدردی کا دوبارہ شکر یہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے اس موقع پر ہمارا غم بانٹنے کی کوشش فرمائی ہے۔فجزاکم اللہ احسن الجزاء۔فقط والسلام۔خاکسار دستخط (مرزا بشیر احمد ) تیسر ا خط غیر مسلم اصحاب کے خطوں کے جواب میں ربوه ۱۵/۵/۱۹۵۲ مکرمی محترمی۔۔تسلیم! حضرت اماں جان کی وفات پر آپ کی طرف سے ہمدردی کا خط موصول ہوا۔آپ کی اس ہمدردی کا بہت بہت شکریہ۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی جزائے خیر دے اور آپ کو خوشی اور راحت کی زندگی نصیب ہو۔والدین کا سایہ بہت ہی بابرکت ہوتا ہے اور ہماری والدہ محترمہ کا وجود تو ہمارے لئے خصوصیت کے ساتھ نہایت ہی مبارک وجود تھا جس کے ساتھ کئی برکتوں کے سائے وابستہ تھے۔پس ان کی وفات حقیقیہ ایک بہت بھاری صدمہ ہے۔مگر ہمیں خدا کے فضل سے امید ہے کہ ان کے بعد بھی ان کی پاک دعا ئیں ہمارا ساتھ دیں گی اور خدا کا فضل ہمارے شاملِ حال رہے گا۔حضرت اماں جان کو اللہ تعالیٰ نے نہایت پاک فطرت عطافرمائی تھی۔وہ بلا امتیاز مذہب و مدت سب لوگوں کی خیر خواہ اور ہمدرد تھیں اور خصوصیت سے غریبوں کا بے حد خیال رکھتی تھیں۔اور نیکی کے کاموں میں سبقت کرنا اور صدقہ و خیرات اور دعا میں وقت گزارنا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ایسے وجود کی وفات کسی ایک خاندان یا قوم کا صدمہ نہیں بلکہ دراصل ساری دنیا کا مشتر کہ صدمہ ہے۔میں آپ کی ہمدردی کا دوبارہ شکر یہ ادا کرتا ہوں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس ہمدردی کا بہتر بدلہ عطا فرمائے اور ہر قسم کی آفات سے محفوظ رکھے۔آمین۔فقط خاکسار دستخط (مرزا بشیر احمد )