سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 249 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 249

249 اولاد سے پیار مکرم ابوالمبارک محمد عبداللہ صاحب حضرت اماں جان کو جہاں مولیٰ کریم نے روحانی لحاظ سے سیدۃ النساء العالمین ہونے کی عزت دی تھی جسمانی لحاظ سے بھی اپنے بہت سے بندوں پر آپ کو فضیلت عطا کی تھی۔آپ پانچ گاؤں کی واحد مالکہ تھیں اور بعض اطراف میں تو آپ کی زمین کا سلسلہ دو دو میل نکل گیا تھا۔ایک دن فجر کی نماز کے بعد فرمایا۔عبداللہ نواں پنڈ ( جانب بسراواں ) کو سیر کرنے چلیں گے میں ساتھ ہولیا۔برکت نام ایک خادمہ بھی ساتھ تھیں ہم نواں پنڈ سے بہت دور آگے نکل گئے۔واپسی پر راستہ تو چھوڑ دیا۔اور کھیتوں کھیت ہو کر چلنے لگے۔ایک جگہ ایک کھیت کی منڈیر پر کھڑے ہو کر فرمایا۔”عبداللہ یہ کھیت ہمارا ہے اور یہ کھیت ( حضرت مرزا) سلطان احمد ( ڈپٹی کمشنر ) کا ہے۔ہمارے کھیت میں ساگ (سرسوں کا ) اچھا نہیں مگر اس میں اچھا ہے۔آواسی سے ساگ تو ڑلیں کہ وہ بھی تو ہمارا ہی بیٹا ہے“۔یہ واقعہ میں نے اسلئے ذکر کیا ہے کہ باوجود ( سیدنا ) حضرت میاں محمود احمد اور حضرت میاں بشیر احمد صاحب سلمہما اللہ تعالیٰ ایسے لائق بیٹوں کے ہوتے ہوئے آپ کو اپنی زرعی جائیداد کی بھی پوری پوری واقفیت تھی۔ہماری کتنی بہنیں ہیں جنہیں اس بات کا علم بھی ہے کہ ان کے والد ، میاں کس دفتر میں کام کرتے ہیں۔اس کے شعبے کا تو نام ہی نہ لو۔مگر حضرت اماں جان ہیں کہ انہیں اپنی ہی زمین نہیں اپنے بیٹے (حضرت مرزا) سلطان احمد کی زمین کی بھی پوری واقفیت ہے۔۱۲۳ مجھے حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے پاس رہتے ہوئے چند ہی دن ہوئے تھے کہ میری آنکھوں نے دیکھا نچلے دالان میں ایک پانچ چھ سالہ لڑکی بھی چار پائی پر پڑی ہوئی ہے۔لگی سی معلوم ہوتی ہے۔ہوش و حواس درست معلوم نہیں ہوتے اکثر دفعہ پیشاب وغیرہ بھی چارپائی پر ہی کر دیتی ہے۔عورتیں اور دوسرے بچے جب اس کی چارپائی کے پاس سے گزرتے ہیں۔تو ناک کے آگے