سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 229 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 229

229 چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال تاثرات مکرم شیخ عبدالحکیم صاحب احمدی جماعت احمد یہ شملہ نے خدا تعالیٰ کے فضلوں سے وافر حصہ پایا ہے۔ان افضال الہی میں سے ایک یہ تھا۔کہ خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کچھ افراد ہر سال موسم گرما میں شملہ چند ماہ کے لئے تشریف لاتے۔اور جماعت کو ان کی خدمت کا موقع ملتا۔میں سمجھتا ہوں۔یہ اُسی قرب کا نتیجہ تھا۔کہ جماعت شملہ خدا تعالیٰ کے فضلوں سے کیا روحانی اور کیا دنیاوی بڑی بڑی نعماء کی وارث بنی۔بعض دفعہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا بھی شملہ تشریف فرما ہوتیں۔اور ہم حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر مادرانہ شفقتوں سے حصہ پاتے۔ان خوش بخت لوگوں میں سے یہ عاجز راقم الحروف بھی ایک ہے۔میں نے اکثر دیکھا کہ آپ اپنے ملازموں کو کبھی زیر بار ہوتے نہ دیکھ سکتی تھیں۔اور بہ اصرار بہت سے اخراجات خود برداشت کرتیں۔چنانچہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ہم۔لوگ آپ کے ہمراہ سیر کو گئے۔واپسی پر چونکہ بہت زیادہ چڑھائی ہے۔میں نے تین رکشا کرایہ پر لیں۔میں خود پیدل ہمراہ تھا۔جب قیام گاہ پر پہنچے۔تو یہ عاجز رکشا والوں کو کرایہ دینے لگا۔تو آپ نے جلدی سے ایک نوٹ مجھے دیا۔اور فرمایا یہ کرایہ اُن کو دو۔جو معمول سے بہت زیادہ تھا۔میں نے عرض کیا۔ہمیں خدمت کا موقع دیں۔اور یہ رقم تو زیادہ ہے۔فرمایا نہیں دیدو۔میں نے ذرا تامل کیا تو فرمایا۔میں جو کہتی ہوں یہ ان کو آپ دیدیں۔بندہ اپنے اصرار پر نادم ہوا۔اور عرض کی۔الامر فوق الادب فرمایا۔یہ تمہاری سعادت ہے۔یہ غریب لوگ کس محنت سے ہمیں لائے ہیں۔اور وہ تمام قلی دعائیں دیتے ہوئے چلے گئے۔گویا آپ نے اپنے عمل سے مجھے یہ سبق دیا۔کہ مزدور کو اُس کی اُجرت سے ہمیشہ زیادہ دوتا وہ خوش خوش جائے چنانچہ یہ عاجز آج تک اس پر کار بند ہے۔۸۷