سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 211 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 211

211 مکرم سید عبدالقادر صاحب کراچی مہمان نوازی ۱۹۲۹ء یا ۱۹۳۰ء میں میری والدہ مرحومہ (اہلیہ سید عبدالقیوم صاحب مدظلہ) پہلی بار قادیان تشریف لے گئیں تھیں۔دارالامان پہنچتے ہی آرام کئے بغیر سیدھی حضرت اُم المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں جا حاضر ہوئیں لباس بھی تبدیل نہیں کیا تھا اس میلی کچیلی حالت میں بوجہ شوق زیارت چلی گئیں۔حضرت اُم المومنین اس وقت پلنگ پر تشریف فرما تھیں اور اردگر دمستورات کا کافی جمگھٹا تھا۔والدہ صاحبہ مرحومہ نے جذبہ محبت سے مجبور ہوکر آگے بڑھنا چاہا۔لیکن چند عورتوں نے آگے جانے سے روک دیا۔مجبوراً والدہ صاحبہ مرحومہ نے دور سے ہی بلند آواز سے سلام عرض کیا تو حضرت اُم المومنین نے نہایت شفقت کے ساتھ فرمایا۔و علیکم السلام۔آئیے آئیے میرے پاس تشریف لائیے۔“ والدہ صاحبہ قریب پہنچیں تو آپ نے اٹھ کر مصافحہ فرمایا اور خیریت دریافت کرنے کے بعد اپنے پاس پلنگ پر بٹھایا۔پھر فرمایا پیاس تو ضرور ہوگی اور معا اٹھ کر خود ہی صراحی میں سے ٹھنڈے پانی کا گلاس بھر کر اپنے دست مبارک سے عطا فرمایا۔پھر پوچھا کہ آپ کو پان کا شوق ہے؟ اثبات میں جواب ملنے پر پان بھی اپنے مقدس ہاتھوں سے عنایت فرمایا۔تھوڑی دیر کے بعد پوچھا آپ کہاں سے تشریف لائی ہیں۔والدہ صاحبہ نے عرض کیا ہوشیار پور سے تو آپ بہت ہی خوش ہوئیں اور فرمایا کہ ہوشیار پور کو بھی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی سے خاص تعلق ہے۔جب والدہ صاحبہ نے اپنے والد ماجد الحاج مولانا شاہ غلام محمد صاحب مرحوم فاضل ہوشیار پوری ) کا نام بتایا اور اس مکان کا تذکرہ کیا جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چلہ کیا تھا۔اور شیخ مہر علی صاحب رئیس اعظم ہوشیار پور سے اپنے خاندان کے قدیمی تعلقات کا ذکر کیا تو حضرت اُم المومنین بے حد خوش ہوئیں بعد ازاں آپ نے ہوشیار پور کے مشہور تاریخی واقعات اور وہاں کے تعلیمی، تمدنی، معاشرتی ، مذہبی اور تجارتی و زرعی حالات دریافت فرمائے اور بازار کے نرخ بھی پوچھے۔۵۷