سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 144 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 144

بعد فرمایا: 144 اللہ تعالیٰ اس بچی کو نیک کرے گا اور لمبی عمر دے گا۔اللہ تعالیٰ اور بچے بھی دے گا جو زندگی والے ہوں گے۔“ اس واقعہ کو بمشکل چار ماہ ہوئے تھے۔تقسیم ملک کے فسادات ہو گئے جبکہ نہایت بے چارگی اور بے بسی کے عالم میں ہمیں ہمارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبارک بستی قادیان دارالامان سے ہجرت کرنا پڑی گھروں سے نکل کر بورڈنگ میں پناہ لی جو چند دنوں میں حد درجہ گندہ ہو گیا۔ایسی صورت میں کسی کی صحت کو درست رہنا ایک غیر ممکن بات تھی۔چنانچہ میری بچی بیمار ہوگئی اور حالت اس حد تک بگڑ گئی کہ صحت کی کوئی امید باقی نہ رہی۔وہ تمام علامات جو حالت نزع کی ہوتی ہیں نمایاں اور واضح تھیں۔میرا دل بیٹھا جار ہا تھا اور میری اہلیہ کو سوائے خاموشی سے آنسو پونچھ لینے کے کوئی چارہ کار نہ تھا۔چونکہ بظاہر بچی کی موت بالکل قریب نظر آرہی تھی میرا دل مایوس ہو جاتا اور میں اپنے تئیں پوچھتا کیا اماں جان کی دعائیں اللہ تعالیٰ نے قبول نہیں فرمائیں؟ پھر یکا یک میرا دل ایمان سے لبریز ہو جا تا۔میرے ہونٹ متحرک ہو جاتے اور بے ساختہ میری زبان سے یہ الفاظ نکل پڑتے کہ ” ضرور اور ضرور اللہ تعالیٰ نے حضرت اماں جان کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا ہے سعیدہ صحت یاب ہوگی‘اسی کیفیت میں وہ وقت آپہنچا جب احمدی مستورات کا قافلہ موٹروں کے ذریعہ لاہور روانہ ہونے والا تھا۔چنانچہ میں نے اپنی اہلیہ اور قرب المرگ بچی کو ٹرک میں سوار کر دیا اس وقت بچی کی حالت بے حد نازک تھی۔ٹرک بورڈنگ کے سامنے سڑک پر کھڑے تھے اور میں ان کی روانگی کے انتظار میں کھڑا تھا۔چونکہ سعیدہ مجھ سے جدا ہو رہی تھی۔میری اہلیہ نے مجھ سے دریافت کیا کہ اگر بچی راستہ میں فوت ہو جائے تو اسے کیا کرنا چاہیئے۔میں نے جوابا کہا اس کی نعش کو لاہور لے جا کر دفن کر دینا۔ٹرک جاچکے تھے اور میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ کیوں میں حضرت اماں جان کی دعاؤں کو جو آپ نے سعیدہ کے لئے کی تھیں بھول گیا۔کیوں میں نے اپنی بیوی کی توجہ ان دعاؤں کی طرف نہیں کرائی۔اور کیوں میں نے سعیدہ کے صحت یاب ہونے اور لمبی عمر پانے کا اسے یقین نہ دلایا۔چند روز کے بعد بورڈنگ میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارشاد گرامی پڑھ کر