سیرت حضرت اماں جان — Page 134
134 سے پہلے قادیان آیا تھا جب حضور حج کو تشریف لے گئے۔آپ کے بعد میں نے حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا سے کہا کہ اب میں جانا چاہتا ہوں۔اور حضرت خلیفہ اول سے اجازت لے لوں گا۔تو آپ نے مجھے فرمایا آپ میاں صاحب کی واپسی تک یہاں ٹھہرے رہیں اور ہر نماز میں حضرت خلیفہ اول اور احباب جماعت کو دعا کی تحریک کیا کریں۔چنانچہ میں آپ کی واپسی تک یہی کام کرتا رہا چنانچہ حضور نے واپسی کے وقت پر مجھے ایک دو تہی اور ایک جائے نماز عطا فرمایا (الحمد للہ کہ چھیالیس سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے اور میری بیوی کو حج کرنے کی توفیق عطا فرمائی ) باطنی پاکیزگی اطاعت خلافت حضور کی غیرت اسلامی اور تطهر قلبی کا واقعہ درج کرتا ہوں۔سن دس گیارہ (11-1910 ) کے قریب کا واقعہ ہے۔کیونکہ ہمیں اہل بیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے گہری عقیدت و محبت تھی۔میں زینہ میں کھڑکی کے پاس کھڑا تھا اور حضرت اُم المومنین کو دعا کے لئے عرض کر رہا تھا۔اور آپ مادر مہربان کی طرح نہایت شفقت سے پیش آرہی تھیں۔اور فرماتی تھیں ہاں دعا کروں گی۔ہاں دعا کروں گی۔میں نے جوش محبت سے یہ عرض کر دیا۔کہ ہمیں تو خوشی اس دن ہوگی کہ روحانی بادشاہت دوبارہ اس گھر میں آجائے گی۔آپ نے فرمایا۔ہیں ہیں یہ تم نے کیا کہا! استغفار کرو استغفار کرو۔آپ کو معلوم نہیں کہ خلیفہ کی موجودگی میں ایسی بات کہنی مناسب نہیں بلکہ نا جائز ہے۔پھر فرمایا استغفار کریں۔۱۹۱۵ء میں مجھے قادیان میں چھ مہینے رہنے کا اتفاق ہوا۔پہلے اندرون دار مسیح بالا خانہ میں جگہ دی گئی تھی۔کچھ عرصہ بعد کسی ضرورت کے تحت مجھے فرمایا کہ آپ مکان کے نچلے حصہ میں جو میرے دالان کے نیچے ہے قیام کریں۔چنانچہ ہم اس کمرہ میں چلے گئے۔میری بیوی اور دو بچیاں ساتھ تھیں اس کمرہ میں ایک بہت بڑا پلنگ پڑا تھا۔اس پر لیٹنے کے لئے فرمایا کہ اس پر تم سب لیٹ جاؤ اور فرمایا میں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام عرصہ تک اس پلنگ پر لیٹتے رہے ہیں۔میں نے عرض کیا کہ حضور بچیاں پیشاب کر دیں گی کوئی اور چار پائی بدل لیتے ہیں۔آپ نے فرمایا نہیں۔جب میرا قیام قادیان میں تھا۔تو میں ایک مقدمہ کی وجہ سے تاریخ پر پٹیالہ گیا تھا۔ایک دن عصر