سیرت حضرت اماں جان — Page 133
133 سترہ پوری ہو گئیں تو آپ نے دوپٹہ ہٹا کر جلدی سے تھال اس کے منہ پر دے دیا۔جب مسجد میں کھانا کھا چکے تو آپ نے میری بیوی سے فرمایا کہ یہ دیکھو۔زردہ کا دیگچہ جب دیکھا تو اس میں تین چار آدمی کے کھانے کا باقی تھا آپ نے فرمایا کہ یہ زردہ تم اپنے گھر لے جاؤ۔قدرت اللہ کو کہنا کہ شام کو کھائے۔کل صبح کو کھائے جو باقی رہے خشک کرلے۔اس کو پھر پکا کر کھا لینا یہ صرف تمہارے ہی لئے ہے۔افراد جماعت سے مادرانہ شفقت بھرا سلوک ۱۹۱۵ء میں میں قادیان شریف میں آیا ہوا تھا۔میری بیوی ساتھ تھی۔اور میرے گھر میں Delivery ہونے والی تھی۔میں ایک دن ظہر کی نماز کے واسطے مسجد مبارک جانے لگا تو میری بیوی نے مجھ سے کہا مجھے کچھ تکلیف ہے۔دعا کرنا۔میں مسجد مبارک کے چھوٹے زینہ سے جب چڑھنے لگا۔تو میں نے کھڑکی کی کنڈی کھٹکا کر خادمہ سے کہہ دیا۔کہ حضرت اُم المومنین سے عرض کر دیں۔کہ قدرت اللہ سنوری سلام عرض کر کے کہتا ہے کہ میری بیوی کو تکلیف ہے۔آپ دعافرما دیں۔( آپ کو یہ علم تھا کہ میرے ہاں بچہ پیدا ہونے والا ہے ) میں نماز سے فارغ ہو کر جب گھر پہنچا اور ہم ایک ہندوؤں کے مکان میں جو ارائیوں کی مسجد سے آگے تھا۔رہائش رکھتے تھے۔تو میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ آپ نے حضرت اُم المومنین کو کیوں اطلاع دی تھی میں نے کہا کہ دعا کے لئے کہنے میں کچھ حرج تھا ؟ انہوں نے بتایا۔ایسے گرمی کے وقت دھوپ کے درمیان آپ ایک خادمہ لڑکی کو ہمراہ لے کر یہاں تشریف لے آئے چونکہ میں سوگئی تھی۔آپ نے زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔اور السلام علیکم فرما کر تبسم لب یہ فرمایا گڑ لیے تو تاپی سوررہی ایں۔اس نے مینوں اطلاع دتی کہ تینوں تکلیف ہورہی اے۔میں ایہ اطلاع پاکے خود آئی ہاں۔میں نے عرض کیا حضور معمولی تکلیف تھی۔آپ نے فرمایا اچھا مجھے تیل دو اور تم لیٹ جاؤ۔تیل دے کر وہ حسب ارشا د لیٹ گئیں۔آپ نے دستِ مبارک سے پیٹ پر اچھی طرح سے مالش کی اور فرمایا کہ ابھی بچہ کی پیدائش میں چند دن باقی ہیں۔چنانچہ قریباً ہفتہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے لڑ کی عطا فرمائی۔جس کا نام حمیدہ بیگم ہے۔اور وہ زندہ سلامت ہے ۱۹۱۲ء میں جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی حج کے لئے تشریف لے گئے تو میں آپ کی روانگی