سیرت حضرت اماں جان — Page 126
126 حضرت سیدۃ النساء کا روحانی اور اخلاقی کمال حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی رضی اللہ عنہ یکے از احباب تین صد تیرہ تحریر فرماتے ہیں: میں بچہ تھا جب قادیان میں اللہ تعالیٰ مجھے لایا۔اور اب ۷۸سالہ بوڑھا ہوں۔میری قریباً ساٹھ سالہ زندگی ”الدار کی ڈیوڑھی کی دربانی میں اور سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین اعلیٰ اللہ درجاتہا فی الجنہ کے قدموں میں گزری۔میں ملک کے طول و عرض میں مختلف اسفار میں حضرت ممدوحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہمرکاب رہا۔اس عرصہ میں جو کچھ حسن سلوک ، عطایا اور انعامات مجھ غلام پر سیدہ اطہرہ کی طرف سے ہوئے وہ میرے لئے احاطہ تحریر میں لانے ناممکن ہیں۔خدا تعالیٰ نے مجھے غلامی اور یتیمی کی حالت میں قادیان کی بستی میں پہنچایا۔لیکن حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کی تو جہات کریمانہ اور احسانات بے پایاں نے مجھے سب غم بھلا دیئے اور وہ اطمینان وسکون اور سہولت و آرام بخشا جو ایک بچہ کو حقیقی ماں کی گود میں بھی میسر نہیں آسکتا۔میں نے اپنی ساٹھ سالہ زندگی میں جو حضرت ممدوحہ کے قدموں میں گزاری آپ کو بہترین شفیقہ ، اعلیٰ ترین اخلاق کی مالکہ ، ہمدرد و تقوی شعار اور خدا تعالیٰ کی راہ میں راستباز پایا۔اور آج جبکہ دنیا کی یہ محسنہ ہم سے جدا ہوگئی ہیں۔اپنے لمبے تجربہ کی بناء پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ جس طرح حضرت اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا نقشہ گانَ خُلُقُهُ الْقُرآن کے الفاظ میں کھینچا تھا۔اسی طرح حضرت اُم المومنین سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے اخلاق کا نقش كان خلقها كخلق المسيح الموعود کے الفاظ میں کھینچتا ہوں۔یعنی حضرت اُم المومنین نصرت جہاں بیگم کے اخلاق وہی تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام